’حالات بہت ہی خراب ہیں‘، وائناڈ میں قبائلی طالبات کے لیے بیت الخلاء کے معاملہ پر پرینکا گاندھی کا ردعمل

AhmadJunaidJ&K News urduOctober 29, 2025365 Views


نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے پرینکا نے کہا کہ لڑکیوں کو منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ جگہ ان کے گھر سے اتنے فاصلے پر نہیں ہونی چاہیے کہ انہیں تعلیم حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔

<div class="paragraphs"><p>پرینکا گاندھی / ویڈیو گریب</p></div><div class="paragraphs"><p>پرینکا گاندھی / ویڈیو گریب</p></div>

i

user

کیرالہ کے وائناڈ سے کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے پارلیمانی حلقہ میں قبائلی طالبات کے لیے بیت الخلاء کے معاملے کے متعلق وزیر او آر کیلو کو خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ حالات بہت ہی خراب ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ وہ ضلع کلکٹر کے رابطہ میں بھی ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ضلع کلکٹر نے کچھ عارضی بیت الخلاء تعمیر کرائے ہیں۔

بدھ (29 اکتوبر) کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ لڑکیوں کو منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ جگہ ان کے گھر سے اتنے فاصلے پر نہیں ہونی چاہیے کہ انہیں تعلیم حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے اور وہ دھیرے دھیرے اپنی تعلیم چھوڑ دیں۔ کانگریس پارلیمنٹ نے کہا کہ ہم نے وزیر سے انہیں قریبی جگہ پر منتقل کرنے، اس اسکول کی تعمیر کرنے اور موجودہ اسکول کی سہولیات کو بہتر کرنے کی گزارش کی ہے۔

کانگریس لیڈر کا کہنا ہے میں نے وزیر او آر کیلو کو خط لکھا ہے، ساتھ ہی ضلع کلکٹر سے بات کر لی ہے اور درخواست کی ہے کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ طالبات ایک محفوظ اور صاف ستھرے ماحول میں اپنی تعلیم جاری رکھیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہر کوئی اس سمت میں کام کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ جمعرات (23 اکتوبر) کو ہی پرینکا گاندھی نے کیرالہ کے وزیر او آر کیلو سے گزارش کی تھی کہ وائناڈ کے سرکاری اسکول کے قبائلی طالبات کو ضلع کے اندر ہی محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ یہ اسکول قبائلی طالبات کے لیے مناسب نہیں ہے۔ رکن پالیمنٹ نے ریاست کے درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور پسماندہ طبقات کی بہبود کے وزیر کیلو سے طالبات کو پڑوسی ضلع کنور کے ایک اسکول میں منتقل کرنے کے فیصلہ پر دوبار غور کرنے کو کہا تھا۔

پرینکا گاندھی نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومت کے اس فیصلے سے کئی طالبات اسکول چھوڑ سکتی ہیں، کیونکہ ان کے اہل خانہ کے پاس ان سے ملنے کنور آنے کے لیے وسائل نہیں ہیں۔ دراصل رکن پارلیمنٹ نے تھرونیلی کے گورنمنٹ آشرم ہائی اسکول کی طالبات کو کنور ضلع کے ارلم کے نیو ماڈل رہائشی اسکول میں منتقل کرنے کے ریاستی اسکول کے فیصلے کا ذکر کر رہی تھیں۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا تھا کہ گورنمنٹ ہائی اسکول کی تمام طالبات، جن کا تعلق پنیا اور آدیا قبائلی برادریوں سے ہیں، ادارے کے ہاسٹل میں غیرانسانی اور خطرناک صورتحال میں رہ رہی تھیں۔

کانگریس لیڈر کا کہنا تھا کہ لڑکیوں کے لیے فراہم کرائی گئی صحت اور صفائی سہولیات بے حد ناکافی ہیں اور انہیں فوری طور پر اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے۔ رکن پارلیمنٹ نے کہا تھا کہ ان کا خیال ہے کہ شیڈولڈ ٹرائب ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ اب طالبات کو ارلم کے رہائشی اسکول میں منتقل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ پرینکا گاندھی نے کیلو کو لکھے اپنے خط میں کہا کہ مجھے شک ہے کہ اس فیصلے کی وجہ سے ان میں سے کئی طالبات اسکول ہی چھوڑ دیں گی۔ ساتھ ہی انہوں نے وزیر سے طالبات کو منتقل کرنے کے فیصلہ پر دوبارہ غور کرنے کی گزارش کی ہے اور انہیں مشورہ دیا ہے کہ انہیں وائناڈ کے اندر ہی کسی مناسب کیمپس میں منتقل کر دیا جائے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...