سپریم کورٹ میں اس معاملے کی اگلی سماعت 27 اکتوبر کو ہونی ہے، جبکہ آواس وکاس نے حکم کے تحت کارروائی کرتے ہوئے عمارت گرانی شروع کر دی۔ کئی دکانداروں نے الزام لگایا کہ انہیں اپنی بات رکھنے یا ریگولرائزیشن (کمپاؤنڈنگ) کے لیے مناسب موقع نہیں دیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ کمپلیکس غیر قانونی تھا تو اتنے برسوں تک انتظامیہ خاموش کیوں رہی؟
کاروباریوں کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا کہ یہ کمپلیکس تقریباً 35 سال پہلے تعمیر کیا گیا تھا اور انہوں نے ایک سال قبل یہاں دکان خریدی تھی۔ ان کے مطابق، پچھلے ایک سال سے وہ مسلسل حکومتی دفاتر کے چکر لگا رہے تھے تاکہ دکانوں کے لیے قانونی منظوری حاصل کی جا سکے مگر کسی نے ان کی بات نہیں سنی۔ ایک متاثرہ خاندان نے روتے ہوئے کہا، ’’ہم نے ہمیشہ بی جے پی کو ووٹ دیا، مگر آج ہماری اپنی ہی حکومت ہم پر ظلم کر رہی ہے۔ اگر ہماری دکانیں توڑنی ہی ہیں تو ہمیں بھی انہی کے نیچے دفن کر دو۔ جب روزگار ہی چھن گیا تو جینے کا کیا مطلب؟‘‘






