
بہار میں اسمبلی انتخابات کی گہما گہمی شروع ہو چکی ہے۔ انتخابی میدان میں یوں تو ایک نئی جماعت پرشانت کشور کی ’جن سوراج پارٹی‘ اور اسد الدین اویسی کی پرانی پارٹی ’اے آئی ایم آئی ایم‘ اور کچھ چھوٹی پارٹیاں بھی قسمت آزمائی کر رہی ہیں لیکن اصل مقابلہ بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے اور کانگریس کی قیادت والے مہا گٹھ بندھن یا ’انڈیا اتحاد‘ کے درمیان ہے۔ بظاہر یہ اسی طرح کا ایک الیکشن ہے جیسا کہ پہلے بھی ہوتا رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس بار بہار کا الیکشن کچھ الگ ہے۔ بہار ایک نئی تاریخ لکھنے جا رہا ہے۔ انتخابی میدان میں بظاہر مہا گٹھ بندھن کا پلڑا بھاری دکھائی دیتا ہے لیکن انتخابات میں آخری لمحوں میں بھی بہت کچھ الٹ پلٹ جاتا ہے اور نتائج کچھ کے کچھ ہو جاتے ہیں۔
انتخابی مہم کے آغاز سے قبل این ڈی اے کی پوزیشن مضبوط دکھائی دے رہی تھی اور مہا گٹھ بندھن کی کمزور لیکن کانگریس کے ایک داؤ نے این ڈی اے کو بظاہر چت کر دیا ہے۔ اس داؤ سے لگنے والا زخم ابھی بھرا بھی نہیں تھا کہ دوسری ضرب بھی لگ گئی۔ ابھی تک کسی بھی محاذ نے وزیر اعلیٰ کے امیدوار کا اعلان نہیں کیا تھا جس پر این ڈی اے کے رہنما مہا گٹھ بندھن کو گھیرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ حالانکہ خود این ڈی اے نے بھی اعلان نہیں کیا ہے لیکن گزشتہ دنوں جب راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اور سینئر کانگریس رہنما اشوک گہلوت نے پٹنہ میں جا کر ایک پریس کانفرنس کی اور آر جے ڈی رہنما اور سابق نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو کو وزیر اعلیٰ کا امیدوار بنانے کا اعلان کیا تو اس محاذ کو گھیرنے والا این ڈی اے خود گھر گیا۔ گہلوت نے تیجسوی کے نام کے اعلان کے ساتھ ’وکاس شیل انصاف پارٹی‘ کے لیڈر مکیش سہنی کو نائب وزیر اعلیٰ کا امیدوار قرار دیا۔






