افریقی رہنما پیٹیس لوممبا کے قتل کے بعد لکھی گئی ساحر کی نظم ’خون پھر خون ہے‘ ظالموں کے لیے ایک لرزہ خیز تنبیہ تھی:
ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے، ٹپکے گا تو جم جائے گا
ان کا دوسرا مجموعہ ’پرچھائیاں‘ جنگ کی ہولناکی پر تقریباً پیشین گوئی کرنے والا بیانیہ معلوم پڑتا ہے، جس میں انسان کی تنہائی اور وجود پر جنگ کے اثرات کو عیاں کیا گیا ہے:
گزشتہ جنگ میں گھر ہی جلے، مگر اس بار
عجب نہیں کہ تنہائیاں بھی جل جائیں






