
خیال رہے کہ ہندوستان نے بارہا یہ واضح کیا ہے کہ اس کی توانائی پالیسی قومی مفاد پر مبنی ہے اور کسی بیرونی دباؤ سے متاثر نہیں ہوگی۔ وزارت خارجہ نے ماضی میں بھی کہا ہے کہ وزیر اعظم مودی اور امریکی صدر کے درمیان ہونے والی بات چیت میں روسی تیل کے معاملے پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔
وزیر اعظم مودی کی حالیہ ایکس پوسٹ میں بھی اس بات کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا کہ روسی تیل کی خرید پر بات ہوئی ہو۔ انہوں نے صرف دیوالی کی مبارکباد اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ موقف پر زور دیا۔ مودی کے الفاظ میں، ’’ہماری دو جمہوریتیں دنیا میں امن، ترقی اور روشنی کی علامت ہیں۔‘‘
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ جلد ہی ہندوستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے ایک باضابطہ وضاحت سامنے آ سکتی ہے تاکہ واضح کیا جا سکے کہ فون کال کے دوران روسی تیل کی خرید پر کوئی بات نہیں ہوئی۔






