
یہ واقعہ پیر کی صبح پیش آیا، جب ٹول کا انتظام سنبھالنے والی ’شری سائن اینڈ داتار کمپنی‘ کے ملازمین نے بونس کے خلاف احتجاج شروع کیا۔ کمپنی نے مارچ 2025 سے ٹول کا ٹھیکہ لیا تھا اور اس کے مطابق ملازمین کو نصف سال کا بونس 1100 روپے دیا گیا۔ تاہم ملازمین کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ سال سے مسلسل کام کر رہے ہیں، اس لیے انہیں پورے سال کا بونس ملنا چاہیے۔ ان کے مطابق اتنی کم رقم دینا ’توہین‘ کے مترادف ہے۔
صبح کی شفٹ میں آتے ہی ملازمین نے ٹول کے سبھی گیٹ کھول دیے۔ دیکھتے ہی دیکھتے گاڑیوں کی لمبی قطار بغیر رکے گزرنے لگی۔ دو گھنٹے کے اندر تقریباً 10 ہزار سے زیادہ گاڑیاں ٹول فیس دیے بغیر آگے نکل گئیں۔ سوشل میڈیا پر لوگوں نے اس منظر کی ویڈیوز شیئر کیں جن میں کاریں، بسیں اور ٹرک تیز رفتاری سے گزرتے دکھائی دیے۔ کئی صارفین نے اسے ’دیوالی کا اصل گفٹ‘ قرار دیا، جبکہ کچھ نے نظام پر سوال اٹھائے۔





