
نظیر برفی، جلیبی، امرتی، لڈو اور بالوشاہی سے بھری مٹھائی کی دکانوں کو دیکھتے ہیں جہاں خریدار خوشی خوشی جمع ہیں۔ وہ کھلونا فروشوں کو دیکھتے ہیں جو رنگ برنگے مٹی کے ہاتھی، گھوڑے اور پرندے سجاتے ہیں:
کبوتروں کو دیکھو تو گٹ گٹاتے ہیں
ہرن اچھلے ہیں، گھوڑے ہنہناتے ہیں
مزید آگے بڑھتے ہیں تو نظیر کے یہاں کمہار کے بنائے ہوئے مٹی کے کھلونے ہندوستانی فنکارانہ روح کی علامت بن جاتے ہیں۔ وہ حیرت سے کہتے ہیں:
قلم کمہار کی کیا کیا ہنر جتاتی ہے
نظیر اکبر آبادی کے اشعار دولت نہیں، فن کی قدر کرتے ہیں۔ وہ عام دستکاری کو عوامی خوشی کا غیر معمولی مظہر بنا دیتے ہیں۔






