
اس موقع کی سجاوٹ ،گُل پوشی اور چراغاں خوشبو دار نئی زندگی اور روشنی کی علامات ہیں۔ اس موقع کا ڈنر انسانی ضرورت بھی ہے اور پوری دُنیا کو علمی اتحاد اور تہذیب کا پیغام بھی ہے ۔ اِس موقع کی تقریبات میں طلاب کا تقریری و تحریری مقابلے اور اُس میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کو ’سر سید ایوارڈ‘ سے نوازا جاتا ہے۔ (واضح رہے کہ راقم الحروف کو 1983 میں پہلا “سر سید ایوارڈ” حاصل کرنے کا شرف حاصل ہے۔)
سر سید کے مقاصد اور اُنکی علمی، ادبی اور سماجی خدمات پر مشتمل خود سرسید اور دیگر ممتاز مصنفین کی كتب اور تصاویر کی نمائش کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے، کینڈی ہال (مرکزی ہال) میں چانسلر یا وائس چانسلر کی صدارت میں خصوصی جلسہ منعقد ہوتا ہے، جس میں ملک و بیرونِ ملک سے ممتاز شخصیات اور اولڈ بوائز شریک ہوتے ہیں۔
یہ تمام سرگرمیاں یقیناً اہم اور قابلِ ستائش ہیں، مگر طلبہ یاد رکھیں کہ اصل خراجِ عقیدت تب ادا ہوگا جب یہاں کہ طلاب موجودہ دور کے تقاضوں اور ضروریاتِ کو پورا کرنے والے ہر شعبہ علم میں سب سے نمایاں اور آگے نظر آئیں، یہ ہی سر سید کی خواہش تھی، یہ ہی علیگڑھ تحریک کا مقصد اور یہ ہی ملک و ملت کی حقیقی ضرورت ہے ۔





