
سر سید احمد خان کے فکری اور تعلیمی اصول آج بھی ہم سب کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ انہوں نے ہمیں سکھایا کہ ترقی، سائنس اور ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے جدید تعلیم لازمی ہے، مگر عقل، اخلاقیات، انسانیت اور رواداری کے بغیر کوئی بھی معاشرہ حقیقی معنوں میں ترقی نہیں کر سکتا۔ ان کی بصیرت، ثابت قدمی اور خدمت کا جذبہ آج بھی نوجوانوں اور طلبہ کے لیے مشعل راہ ہے۔
پنڈت جواہر لال نہرو نے بھی کہا تھا کہ سر سید احمد خان ایک ایسا اصلاحی رہنما تھے جو مذہب اور سائنسی سوچ کو بغیر کسی بنیاد پرستی یا تعصب کے ہم آہنگ کرنا چاہتے تھے۔ وہ نہ تو کمیونٹی کی حد تک محدود تھے اور نہ ہی کسی فرقہ وارانہ ایجنڈے کے حامی۔ ان کی زندگی اور کام ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ مذہبی اختلافات کے باوجود معاشرتی اور قومی ترقی ممکن ہے۔
آج 17 اکتوبر کو نہ صرف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بلکہ پوری دنیا میں سر سید ڈے یا عیدِ علیگ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن صرف ایک تعلیمی ادارے کی بنیاد کی یاد دہانی نہیں، بلکہ علم، فکری آزادی، رواداری اور انسانی خدمت کے اصولوں کا عالمی دن بھی ہے۔ سر سید احمد خان کی تعلیمات اور بصیرت ہمیں ہمیشہ یاد دلاتی ہیں کہ ترقی کا راستہ عقل، علم اور انسانیت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔




