بھارت: نریندر مودی کو بہار میں مشکل ریاستی انتخابات کا سامنا – World

AhmadJunaidJ&K News urduOctober 16, 2025365 Views



بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے قومی اتحاد کو اگلے ماہ ریاست بہار میں ہونے والے انتخابات میں سخت مقابلے کا سامنا ہے، جہاں نوجوانوں میں بے روزگاری اور ووٹر لسٹوں پر عدم اعتماد ان کے اتحاد کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق مشرقی بھارت کی ریاست بہار آبادی (13 کروڑ سے زائد آبادی) کے لحاظ سے تیسری بڑی اور ملک کی غریب ترین ریاستوں میں سے ایک ہے، اس کے وزیراعلیٰ نتیش کمار ماضی میں کبھی مودی کے ساتھ تو کبھی اپوزیشن کے ساتھ رہے ہیں، تاہم اس وقت وہ مودی کے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کے ایک اہم اتحادی ہیں۔

یہ ریاست سیاسی طور پر نہایت اہم خطے کا حصہ ہے، اور اگر نومبر میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے میں کسی قسم کی دراڑ پیدا ہوتی ہے تو مودی کے اتحاد کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے، کیونکہ چند ماہ بعد آسام، مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں بھی انتخابات ہونے والے ہیں، نریندر مودی کا قومی اتحاد پارلیمنٹ کی 543 نشستوں میں سے 293 پر قابض ہے۔

ووٹ وائب ایجنسی کے مطابق اس کے سروے میں این ڈی اے کو 8 اکتوبر تک اپوزیشن اتحاد (راشٹریہ جنتا دل اور کانگریس پارٹی کی قیادت میں) پر محض 1.6 فیصد پوائنٹس کی برتری حاصل تھی۔

ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ یہ الیکشن کسی بھی طرف جا سکتا ہے، مزید بتایا کہ این ڈی اے کی معمولی برتری کا سبب اس کے حالیہ پروگرام ہیں، جس میں 121 ارب روپے (1.37 ارب ڈالر) کے خود روزگاری سبسڈی اسکیم کے تحت ایک کروڑ 21 لاکھ خواتین کو براہِ راست مالی امداد دینا شامل ہے۔

بہار کے دارالحکومت پٹنہ کی سماجی کارکن نویدیتا جھا نے کہا کہ خواتین اس انتخاب میں مضبوط ووٹنگ بلاک ہوں گی کیونکہ مرد عام طور پر روزگار کی تلاش میں بہار چھوڑ کر ممبئی اور دہلی جیسے اقتصادی مراکز کا رخ کرتے ہیں اور سب ووٹ ڈالنے واپس نہیں آتے۔

انہوں نے کہا کہ فیصلے خواتین کرتی ہیں کیونکہ مرد یہاں نہیں ہوتے، وہ اپوزیشن کے بارے میں بات کرتی ہیں جو وعدہ کر رہی ہے کہ اگر وہ اقتدار میں آئی تو زیادہ پیسہ دے گی، اور میری سمجھ میں یہ آیا ہے کہ وہ اپوزیشن پر زیادہ اعتماد کرتی ہیں۔

بہار کے کچھ ووٹرز ریاستی ووٹر لسٹ کی نظرثانی پر بھی ناراض ہیں، ایک 85 سالہ خاتون جتنی دیوی کا کہنا ہے کہ ان کا نام ووٹر لسٹ سے خارج کر دیا گیا ہے اور اب وہ نہ ووٹ ڈال سکتی ہیں نہ پنشن وصول کر سکتی ہیں۔

انہوں نے رائٹرز کو بتایا کہ مجھے مردہ قرار دے دیا گیا، میرے گاؤں کے لوگ میرا مذاق اڑاتے ہیں کہ میں مر چکی ہوں، اور بینک کے افسر مجھے پیسے نکالنے نہیں دیتے۔

ریاستی الیکشن کمیشن نے جتنی دیوی کے معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، جبکہ وفاقی الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ تمام شکایات کی مکمل تحقیقات کی جاتی ہیں۔

نوجوان ووٹرز میں روزگار کے مواقع کی کمی ایک اور بڑا انتخابی مسئلہ ہے، حالانکہ بے روزگاری کی شرح میں کمی آئی ہے، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 24-2023 میں بہار میں 15 سے 29 سال کی عمر کے 9.9 فیصد افراد بے روزگار تھے، جو 19-2018 میں 30.9 فیصد تھے، لیکن تشویش اب بھی موجود ہے۔

پہلی بار نومبر میں ووٹ ڈالنے کے لیے اہل 25 سالہ ببلو کمار نے کہا کہ میں نے اپنے والد کو بہار سے باہر کام کے لیے جاتے دیکھا ہے، اس لیے میرے لیے روزگار کا مسئلہ سب سے زیادہ اہم ہے۔

مودی کے سابق انتخابی منیجر پرشانت کشور کی جانب سے نئی سیاسی جماعت ’جن سوراج‘ قائم کی گئی ہے، انہوں نے بتایا کہ ان کی پارٹی بہار کی سیاسی سمت بدلنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

پارٹی کے صدر اُدے سنگھ نے کہا کہ بے روزگاری، ہجرت، بڑھتے قرضے اور زرعی آمدنی میں کمی بہار کے اصل مسائل ہیں، یہاں مودی کی مقبولیت میں نمایاں کمی آئی ہے۔

اپوزیشن نے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ اقتدار میں آئی تو ایک ایسا قانون بنائے گی جو ہر خاندان کو کم از کم ایک سرکاری نوکری کی ضمانت دے گا۔

تاہم مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو اپنی کامیابی پر اب بھی اعتماد ہے۔

بی جے پی کے ترجمان گرو پرکاش پاسوان نے کہا کہ این ڈی اے اتحاد بہت مضبوط پوزیشن میں ہے، عوام کو وزیر اعظم نریندر مودی کے وژن پر گہرا اعتماد ہے۔

ریاستی اسمبلی کی 243 نشستوں کے لیے ووٹنگ 6 اور 11 نومبر کو ہوگی، جبکہ نتائج 14 نومبر کو جاری کیے جائیں گے۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...