
ابتدا میں ٹرمپ انتظامیہ نے جاپان اور جنوبی کوریا پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کیا تھا، جس پر جاپان نے سخت ردِعمل ظاہر کیا اور مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے لیکن طویل گفت و شنید کے بعد اب 25 فیصد ٹیرف کم کر کے 15 فیصد پر طے پایا ہے، جسے ٹرمپ نے امریکہ کی قومی سلامتی اور برآمدات کے لیے کامیاب فیصلہ قرار دیا۔
وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ڈھانچہ باہمی اصولوں اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جاپان نے امریکہ میں 550 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ حکومتی بیان کے مطابق یہ سرمایہ کاری امریکی تاریخ کے کسی بھی دوسرے دوطرفہ معاہدے سے منفرد اور بڑی ہے۔ اس کے نتیجے میں امریکہ میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، صنعتوں کا دائرہ بڑھے گا اور قومی سلامتی مزید مضبوط ہوگی۔






