2025 صحافیوں کے لیے سب سے خونیں سال…سہیل انجم

AhmadJunaidJ&K News urduJanuary 4, 2026361 Views


صحافیوں کی ایک دوسری عالمی تنظیم ”کمیٹی ٹو پروٹکٹ جرنلسٹس“ (سی پی جے) نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ 2023 میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے بعد سے اب تک اسرائیل 250 صحافیوں کو ہلاک کر چکا ہے۔ ان کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ غزہ کی صورتحال کی رپورٹنگ کر رہے تھے۔ جس کے نتیجے میں اسرائیل پوری دنیا میں بدنام ہو رہا تھا۔ لہٰذا اس نے اس بدنامی سے بچنے کے لیے صحافیوں کو ہلاک کرنا شروع کر دیا۔ اس کی افواج فیلڈ میں اپنے فرائض میں مصروف صحافیوں کو نشانہ بناتیں اور جو بھی سامنے آتا اس کو ہلاک کر دیتیں۔ اس نے سب سے زیادہ عالمی میڈیا ادارے الجزیرہ کے صحافیوں کو ہلاک کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے صحافیوں کی رپورٹنگ اسرائیل کو بے نقاب کر رہی تھی۔ بنجامن نیتن یاہو کیسے برداشت کرتے کہ صحافیوں کے ہاتھوں ان کی ذلت و رسوائی کا سامان ہو۔ حالانکہ جنگی قوانین میں صحافیوں کو نشانہ نہ بنانا شامل ہے۔ لیکن چونکہ اسرائیل نے تمام عالمی قوانین کو اپنے پیروں تلے روندا۔ لہٰذا اس کے لیے صحافیوں کے تحفظ کے قانون کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

آئی ایف جے نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ مغربی ایشیا کے بعد سب سے زیادہ افریقہ میں 18 صحافی ہلاک ہوئے۔ ایشیا بحر الکاہل خطے میں 15 اور یوروپ میں دس صحافی مارے گئے۔ خلیجی ملکوں کی بات کریں تو فلسطین کے بعد یمن میں 13، یوکرین میں آٹھ اور سوڈان میں چھ صحافیوں نے اپنے فرائض کی انجام دہی میں اپنی جانیں گنوائیں۔ پیرس میں قائم صحافیوں کی تنظیم نے اسرائیل کی طرف سے الجزیرہ کے صحافی انس الشریف کے قتل کو گزشتہ سال فلسطین میں غزہ پر اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ کی کوریج کرنے والے ہلاک شدہ 56 صحافیوں میں قتل کی سب سے بڑی علامت قرار دیا ہے۔ انھیں دس اگست کو قتل کیا گیا۔ 28 سالہ الشریف کئی ساتھیوں کے ساتھ اس وقت مارے گئے جب اسرائیلی فورسز نے غزہ شہر کے الشفا اسپتال کے باہر میڈیا کے خیمے پر حملہ کیا۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...