
مثال کے طور پر، ماروتی سوزوکی کے پلانٹس میں کام کرنے والے ملازمین کی تعداد تقریباً 35 سے 36 ہزار ہے، لیکن ان میں سے صرف 17 سے 18 فیصد مستقل ملازمین ہیں۔ باقی بڑی تعداد عارضی یا ٹھیکے پر کام کرنے والوں کی ہے، جن کی آمدنی 12 سے 30 ہزار روپے ماہانہ کے درمیان ہے، جبکہ مستقل ملازمین زیادہ تنخواہ اور بہتر مراعات حاصل کرتے ہیں۔
یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مزدور طبقہ کس طرح عدم تحفظ کا شکار ہے۔ ماضی میں عدالتوں اور حکومت نے بھی اس بات کو تسلیم کیا تھا کہ مستقل نوعیت کے کام کرنے والے مزدوروں کو مستقل ملازمت ملنی چاہیے، لیکن نئے لیبر قوانین نے اس تحفظ کو کمزور کر دیا ہے۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ بڑی تعداد میں ہونے والے یہ احتجاج اور ہڑتالیں عوامی توجہ حاصل نہیں کر پاتیں، کیونکہ میڈیا میں انہیں مناسب جگہ نہیں دی جاتی۔ اس کے باوجود، یہ مظاہرے اس بات کا ثبوت ہیں کہ مزدور طبقہ اپنے حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہا ہے۔






