
ملکوں کی سیاست میں ایسے مقامات آتے رہتے ہیں جہاں انھیں اپنی پالیسیوں سے یو ٹرن لینا پڑتا ہے۔ ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ کل کے دوست آج کے دشمن اور کل کے دشمن آج کے دوست بن جاتے ہیں۔ ان تغیر پذیر حالات کے جبر کے نتیجے میں بہت سے سخت فیصلے منسوخ کرنے پڑتے ہیں اور تازہ ترین صورت حال کے تناظر میں پالیسیوں کی تشکیل نو کرنی پڑتی ہے۔ ہندوستان، امریکہ اور چین آجکل اسی عبوری دور سے گزر رہے ہیں۔ کیا حالیہ برسوں میں کسی نے سوچا تھا کہ امریکہ جو ہندوستان کا بہت گہرا دوست بن گیا ہے اور جس سے ہندوستان کے اسٹریٹجک رشتے قائم ہو گئے ہیں وہ اس سے دور ہو جائے گا اور اس کے روایتی حریف پاکستان کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھا دے گا۔ کیا کسی نے سوچا تھا ہندوستان اور چین جو ایک طرح سے ایک دوسرے کے دشمن بن گئے ہیں پاس آ جائیں گے اور دونوں ملکوں کے سربراہ گلے ملنے لگیں گے۔ سفارت کاری ایسے کرشمے دکھاتی ہے اور مذکورہ تینوں ملکوں میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے اسے کچھ اسی انداز میں دیکھا جانا چاہیے۔
جب 2020 میں لداخ میں ہندوستانی اور چینی افواج کے درمیان خونیں جھڑپ ہوئی تھی اور ہندوستان کے بیس فوجی ہلاک ہوئے تھے تو ایسا لگ رہا تھا کہ دونوں ملک جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔ سرحد پر کشیدگی اس قدر بڑھ گئی تھی کہ فریقین کی جانب سے وہاں تعینات فوجیوں کی تعداد پچاس پچاس ہزار تک پہنچ گئی۔ اس کے علاوہ دونوں نے وہاں انفرا اسٹرکچر قائم کیے۔ فوجی ساز و سامان اور ہتھیار ذخیرہ کیے۔ ایسی بہت سی سرگرمیاں انجام پانے لگیں جو پہلے کبھی نہیں ہوئی تھیں۔ لیکن رفتہ رفتہ کشیدگی کم ہونے لگی اور دوطرفہ مذاکرات کے نتیجے میں کچھ تنازعات کو حل کیا گیا۔ لیکن تمام تنازعات اب بھی حل نہیں ہوئے ہیں۔ چین پر الزام ہے کہ اس نے ہندوستان کی ہزاروں کلومیٹر زمین پر قبضہ کر لیا ہے اور ہندوستانی افواج پہلے جہاں تک رسائی رکھتی تھیں اب وہاں تک نہیں رکھ پاتیں۔






