
اپنے وجود کو باقی رکھنے کی جدوجہد کرنے والی بی جے پی کو آج سے تقریباً 11 برس قبل 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں جس طرح تھوک کے بھاو سیٹیں ملی تھیں، اس پر اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ ساتھ سیاسی پنڈت بھی ششدر رہ گئے تھے ۔ اس وقت کے غیر متوقع نتائج نے کئی سوالات کو جنم دیا تھا اور یہاں تک کہا جانے لگا تھا کہ ’دال میں کچھ کالا ہے‘ پھر بھی وطن عزیز کے بھولے بھالے ووٹروں اور ماہرین سیاست نے الیکشن کمیشن پر بھروسہ قائم رکھا اور اپنے تمام شکوک و شبہات کو جمہوری وقار پر قربان کردیا۔
مگر2019 کے لوک سبھا انتخابات میں جبکہ ہر طرف سے یہی اندازے ظاہر کئے گئے تھے کہ بی جے پی کے ’جھوٹ‘ کا غبارہ پھوٹنے والا ہے کیونکہ ان پانچ سالوں میں فرقہ وارانہ منافرت کے سوا ملک اور عوام کی ترقی اور بہبود کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔ اس وقت بھی یہی کہا گیا کہ بے روزگار نوجوانوں سے لے کر ملک کا ہر شہری پریشان ہے اور حکومت کے تئیں اپنی ناراضگی ظاہر کر رہا ہے۔ مگر جب نتائج سامنے آئے تو بی جے پی اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر2014 سے بھی زیادہ سیٹیں بٹورنے میں کامیاب رہی۔






