13 مارچ 2026 کو سماجی انصاف اور اختیارات کے وزیر ویرندر کمار نے لوک سبھا میں ’ٹرانسجنڈر پرسن (حقوق کے تحفظ) ترمیمی بل، 2026‘ پیش کیا۔ جب میں نے یہ سنا تو مجھے لگا کہ آخرکار وہ تبدیلیاں لانے جا رہے ہیں، جس کا ٹرانسجنڈر کمیونٹی دہائیوں سے مطالبہ کر رہی ہے۔ لیکن یہ میری ناسمجھی تھی۔ مثلاً افقی ریزرویشن کی دفعات، یا 2019 کے قانون میں ایک ساتھ شامل کی گئی مختلف قسم کے تشدد کے لیے یکساں سزا کو یقینی بنانا۔ لیکن حقیقت تلخ تھی۔ معلوم ہوا کہ یہ نیا بل کمیونٹی کے حقوق کو وسعت دینے کے بجائے تقریباً وہ تمام حقوق واپس لے لیتا ہے جو انہوں نے دہائیوں کی جدوجہد کے بعد حاصل کیے ہیں۔
اپوزیشن کے اس مطالبے کے باوجود کہ بل کو وسیع غور و فکر کے لیے ’سلیکٹ کمیٹی‘ کو بھیجا جانا چاہیے، اور وکلاء و کارکنوں کی اس اپیل کے باوجود کہ صدر اس پر اپنی منظوری نہ دیں، اس کی رجعت پسند دفعات اب ایک نیا قانون بن چکی ہیں۔ یہ تبدیلیاں رجعت پسند کیوں ہیں؟ یہ ترمیمات کس طرح بنیادی حقوق کو کمزور کرتی ہیں یا ان کی خلاف ورزی کرتی ہیں، اور آرٹیکل 14 (قانون کے سامنے مساوات)، آرٹیکل 15 (امتیاز سے پاک برتاؤ)، آرٹیکل 19 (اظہارِ رائے کی آزادی) اور آرٹیکل 21 (زندگی، ذاتی آزادی اور جسمانی سالمیت کے تحفظ) کے تحت حاصل تحفظات کو کس طرح کمزور کرتی ہیں؟
سب سے پہلے، نیا قانون ’ٹرانسجنڈر پرسن‘ کی تعریف کو محدود کرتا ہے۔ یہ خود شناخت کو غیر معتبر قرار دیتا ہے اور میڈیکل بورڈ اور ضلع مجسٹریٹ کو ’تصدیق‘ کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ اس طرح یہ سپریم کورٹ کے تاریخی ’نالسا‘ فیصلے (2014) کے خلاف جاتا ہے، جس نے ٹرانسجنڈر افراد کے آئینی حقوق کو تسلیم کیا تھا اور صنفی شناخت کے لیے خود شناخت کے اصول کو قائم کیا تھا۔
نئے قانون میں نافذ کی گئی درجہ بند سزا کا نظام، جس کا مقصد کسی شخص کو ٹرانسجنڈر کے طور پر پیش کرنے کے لیے دباؤ/دھوکہ دہی/لالچ کو جرم قرار دینا ہے، میں وسیع زبان استعمال کی گئی ہے، جہاں صنفی توثیق سے متعلق نگہداشت کو بھی دباؤ کے طور پر تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ یہ کمیونٹی کی حقیقتوں کو نظر انداز کرتا ہے اور ممکنہ طور پر ان کے امدادی نظام کو مجرمانہ بنا دیتا ہے۔
میں اتر پردیش میں ٹرانسجنڈر کمیونٹی کے بارے میں طرح طرح کی افواہیں سنتا ہوا بڑا ہوا۔ مثلاً ان کے جنسی اعضا کی ساخت عجیب ہوتی ہے (جنہیں ٹھیک سے پہچانا نہیں جا سکتا)، وہ چوری اور بچوں کے اغوا میں ملوث ہوتے ہیں، وہ لوگوں کو خود کو نامرد بنانے پر مجبور کرتے ہیں… اور بھی بہت کچھ۔ اس طرح کا مسخ شدہ تصور، جس نے اس کمیونٹی کو طویل عرصے سے حاشیہ پر دھکیل رکھا ہے، اب قانونی شکل میں دوبارہ سامنے آ گیا ہے۔
یہ بل ٹرانسجنڈر پرسن کی تعریف کو محض 3 تنگ زمروں تک محدود کر دیتا ہے: مرد، عورت، ٹرانسجنڈر۔ انٹرسیکس افراد کو ٹرانسجنڈر زمرے میں شامل کر کے (حالانکہ انٹرسیکس تغیرات حیاتیاتی ہوتے ہیں اور صنفی شناخت سے الگ ہوتے ہیں) اور صرف چند مخصوص سماجی و ثقافتی گروہوں (جیسے، کنر، ہجڑا، اروانی، جوگتا، نامرد) کو ہی فہرست میں شامل کر کے، یہ ان ٹرانسجنڈر افراد کو واضح طور پر ان کے حقوق سے محروم کرتا ہے جو شاید ان سماجی و ثقافتی گروہوں میں سے کسی کا بھی حصہ نہ ہوں۔ ایسے میں نان بائنری اور صنفی طور پر مختلف لوگوں کا کیا ہوگا؟ منی پور کے ’نوپی مانبی‘ جیسے دیگر ٹرانس گروپوں کا کیا ہوگا؟
یہ ’ٹرانسجنڈر ہونے‘ کو ایسے حیاتیاتی اشاریوں سے جوڑتا ہے جو صنفی شناخت کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تعریفوں کے برعکس ہے۔ جیسا کہ یورپین انسٹی ٹیوٹ فار جینڈر ایکوالٹی کہتا ہے، صنفی شناخت ’’ہر فرد کا جنس کے حوالے سے ایک گہرا، داخلی اور ذاتی تجربہ ہے، جو پیدائش کے وقت متعین جنس سے میل بھی کھا سکتا ہے اور نہیں بھی۔ اس میں جسم کے ذاتی احساس (جس میں، اگر آزادانہ طور پر منتخب کیا جائے، تو طبی، جراحی یا دیگر ذرائع سے جسمانی ساخت یا افعال میں تبدیلی شامل ہو سکتی ہے) اور جنس کے دیگر اظہارات، جیسے لباس، بول چال اور حرکات شامل ہیں۔‘‘
یہ ٹرانسجنڈر افراد کی مؤثر تصدیق کے لیے ضلع سطح کے میڈیکل بورڈ کی تشکیل کو دوبارہ شروع کرتا ہے۔ اس متنازعہ دفعہ کی ایک تاریخ ہے۔ اسے ابتدا میں 2016 میں تجویز کیا گیا تھا، جسے کارکنوں نے ’طبی اور بیوروکریٹک رکاوٹ‘ اور ’نالسا‘ فیصلے (2014) کی خلاف ورزی قرار دیا تھا، جس کے بعد 2019 کے قانون میں اسے واپس لے لیا گیا تھا۔
2019 کا قانون بھی مثالی سے کوسوں دور تھا۔ کمیونٹی کے وقار کے حق کو جس طرح اس میں نظر انداز کیا گیا تھا، وہ اس بات سے واضح ہوتا ہے کہ عصمت دری اور جسمانی استحصال جیسے پرتشدد جرائم کو، کمیونٹی کے خلاف کیے گئے کم سنگین جرائم (جیسے عوامی مقامات کے استعمال میں رکاوٹ ڈالنا) کے ساتھ ایک ہی ’وسیع دفعہ‘ کے تحت شامل کر دیا گیا تھا، اور ان سب کے لیے ایک جیسی ہی ہلکی سزا مقرر کی گئی تھی۔ تو کیا واقعی یہ ’حقوق کے تحفظ‘ کے بارے میں ہے، جیسا کہ اس قانون کی اصطلاح آپ کو یقین دلانا چاہتی ہے۔
جب نیشنل کونسل فار ٹرانس پرسنز (این سی ٹی پی) کے ٹرانسجنڈر اراکین کو سماجی انصاف کے وزیر ویرندر کمار کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کے لیے ملک کے مختلف حصوں سے بلایا گیا، تو انہوں نے خود آنے کے بجائے بیوروکریٹس کو بھیج دیا۔ 25 مارچ کو این سی ٹی پی سے استعفیٰ دیتے ہوئے (جب راجیہ سبھا نے بل پاس کیا تھا)، کونسل کے اراکین کلکی سبرامنیم اور ریتوپرنا نیوگ نے بتایا کہ مباحثوں کے دوران کیا ہوا تھا۔ مثلاً جب ان سے عصمت دری سے متعلق غیر مساوی قوانین کے بارے میں پوچھا گیا، تو حکام نے ٹرانس خواتین اور سس جینڈر خواتین کے درمیان ’حیاتیاتی فرق‘ کا حوالہ دیا۔ یہ نئے بل کے پیچھے موجود امتیازی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے، جو ’بایو-ایسینشیلزم‘ (حیاتیاتی جوہریت) پر مرکوز ہے، ایک ایسا نظریہ جس کے مطابق کسی فرد کے وجود کی بنیادی حقیقت حیاتیاتی عوامل میں مضمر ہوتی ہے، نہ کہ قانون کے سامنے مساوات کے بنیادی انسانی حق میں۔
ایک اور خطرناک ترمیم کسی بھی شخص یا بچے کو ’ظاہری طور پر ٹرانسجنڈر شناخت اپنانے پر مجبور کرنے‘ کی کوشش پر سخت سزا (10 سال سے لے کر عمر قید تک) کا التزام کرتی ہے۔ بظاہر یہ ایک بے ضرر بلکہ مفید ضابطہ لگ سکتا ہے، لیکن ان دفعات میں استعمال کی گئی پیچیدہ زبان کے باعث، زمینی سطح پر اس کا اثر نہایت خوفناک ہو سکتا ہے۔ کئی معاملات میں ٹرانس افراد کو اپنے پیدائشی خاندان سے تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انہیں گھر میں اپنی اصل شناخت چھپانے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ اگر وہ گھر سے بھاگنے اور اوپر بیان کیے گئے کسی ادارے میں پناہ لینے کا انتخاب کرتے ہیں، تو ان کے خاندان آسانی سے ان لوگوں کے خلاف ’اغوا یا بہکانے‘ کا مقدمہ درج کرا سکتے ہیں، جنہوں نے انہیں پناہ دی ہو۔ یہ پرانی سوچ کہ والدین یا پیدائشی خاندان بچے کو نقصان نہیں پہنچا سکتے، بار بار غلط ثابت ہوئی ہے۔ پھر بھی ہم آنکھ بند کر کے ٹرانس افراد کے پیدائشی حقوق ان کے خاندان کے حوالے کر رہے ہیں۔
آخرکار، ہندوستانی ’کوئیر کمیونٹی‘ (صنفی طور پر حاشیہ پر موجود کمیونٹی) کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سماج کے کسی بھی طبقہ کو حقوق سے محروم کرنے پر مبنی سیاست ایک دن ان کے پاس بھی لوٹ کر آئے گی۔ ہندوستان کے ایل جی بی ٹی کیو+ کمیونٹی کا ایک چھوٹا حصہ اکثریتی طاقتوں سے منظوری حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کرتا رہا ہے۔ اس نئے قانون سے انہیں یہ سمجھ آ جانا چاہیے کہ وہ دراصل کہاں کھڑے ہیں۔ آئندہ مردم شماری میں ہمیں مزید حاشیہ پر دھکیلنے اور ہماری گنتی کم کرنے کی بدنیتی پر مبنی کوششوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب مل کر ایک آواز میں اپنی بات اٹھائیں۔
(مضمون نگار چتجیت مترا الٰہ آباد میں رہنے والے ایک مصنف اور مترجم ہیں)
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

































