
بنیادی بات یہ ہے کہ کووِڈ وبا، جی ایس ٹی کو خامیوں کے ساتھ نافذ کرنے کا طریقہ اور نوٹ بندی کے بعد جی ڈی پی کے اندازے کی پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ہی غیر منظم شعبے سے اور زیادہ اعداد و شمار جمع کرنے کی بھی ضرورت ہے، تاکہ وہ منظم شعبے کی محض پروکسی نہ بن کر رہ جائیں۔ جب تک ان دو عدم توازنات کو درست نہیں کیا جاتا، تب تک ملک میں ناکافی روزگار پیدا کرنے اور مسلسل غربت کی زمینی حقیقت کو دیکھتے ہوئے جی ڈی پی کے بلند اعداد و شمار پر شبہ قائم رہے گا۔
(یہ مضمون پہلے ’دی وائر‘ انگریزی میں شائع ہوا۔ پروفیسر ارون کمار جے این یو میں اکنامکس کے ریٹائرڈ پروفیسر ہیں۔)






