
لکھنؤ یونیورسٹی میں بڑی تعداد میں طلبہ نے نئے ضوابط کو ’سیاہ قانون‘ قرار دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ یہ قواعد عام زمرے کے طلبہ کے خلاف امتیازی نوعیت رکھتے ہیں اور جھوٹے الزامات کے ذریعے اساتذہ اور طلبہ کو نشانہ بنائے جانے کا راستہ ہموار کرتے ہیں۔ احتجاج کے دوران کیمپس میں کشیدگی دیکھی گئی، جس پر یونیورسٹی انتظامیہ نے امتحانی نظام میں خلل ڈالنے کے الزام میں کارروائی کی وارننگ بھی دی۔
دہلی میں بھی مختلف طلبہ گروپوں نے یو جی سی کے صدر دفتر کے باہر جمع ہو کر ضوابط کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیگر طلبہ سے اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں سامنے آ کر ان قواعد کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔ اسی دوران اتر پردیش کے دیگر شہروں میں بھی احتجاجی سرگرمیاں جاری رہیں اور آئندہ دنوں میں مزید مظاہروں کا اعلان کیا گیا۔






