
مہاپنچایت کے دوران کسانوں نے اتھارٹی اور حکومت کے خلاف سخت ناراضگی ظاہر کی۔ کسانوں کا کہنا تھا کہ وہ اب محض وعدوں اور یقین دہانیوں پر خاموش رہنے والے نہیں ہیں۔ برسوں سے ان کے مسائل جوں کے توں ہیں اور ہر بار مذاکرات کے بعد صرف وعدے کیے جاتے ہیں۔ کسانوں نے واضح کیا کہ اب وہ اپنا ایک ایک حق لے کر رہیں گے، چاہے اس کے لیے طویل اور شدید تحریک کیوں نہ کرنی پڑے۔
صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے پولیس، انتظامیہ اور اتھارٹی کے افسران بھی موقع پر پہنچے اور کسانوں سے بات چیت کی۔ کسانوں نے اپنی مانگوں پر مشتمل ایک یادداشت حکام کے حوالے کی اور خبردار کیا کہ اگر ان مطالبات پر جلد سنجیدہ غور نہ کیا گیا تو تحریک کو مزید تیز کیا جائے گا۔





