
1906 میں آل ا نڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور اس کے فروغ و توسیع میں نمایاں کام انجام دیا، جو مدراس مسلم لیگ کے بانی مبانی میں سے ایک تھے۔ 1906 میں انگریزی ویکی مسلم پیٹریاٹ اور ایک اردو ہفت روزہ قومی ہلچل شائع کیے ،جن کی تقریباً دو سال تک پابندی کے ساتھ اشاعت جاری رہی۔ انہوں نے برطانوی حکومت اور فوج میں اہم عہدوں پر ہندوستانیوں کی جائز نمائندگی کے مسلے کو زور وشور سے اٹھایا۔ جب 1915 میں مہاتما گاندھی مدراس کے دورے پر آئے تو یعقوب حسن ان کی شخصیت سے بے حد مثاتر ہوئے۔ جس کے بعد وہ انڈین نیشنل کانگریس کے رکن بن گئے۔
مزید برآں جب بھی مہاتما گاندھی مدراس کا دورہ کرتے تو یعقوب سیٹھ ان کی میزبانی میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ انہوں نے 1916 میں انڈین نیشنل کانگریس اور مسلم لیگ لکھنؤ معاہدہ کرانے میں حتی المقدور کاوشیں کیں۔ وہ مدراس پریذیڈنسی کے واحد مسلم سیاست دان بھی تھے جو لکھنؤ معاہدے کے مسودے میں شامل تھے۔ اسی سال (1919 تا 1916) ساؤتھ انڈین چیمبرس آف کامرس کی طرف سے مدراس لیجسلیٹو کونسل کے لیے منتخب کیے گئے۔





