
سینئر وکیل نظام پاشا نے اس معاملے کا ذکر چیف جسٹس آف انڈیا کے سامنے کیا۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ آسام کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے متعدد مسلم مخالف قابل اعتراض بیانات دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں وزیر اعلیٰ کو مسلم ٹوپی پہنے کچھ افراد کی جانب بندوق سے نشانہ لیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
وکیل کے مطابق اس معاملے میں متعلقہ حکام کے پاس شکایت درج کرائی گئی لیکن اب تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے عدالت سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کی سنجیدہ نوعیت کو دیکھتے ہوئے فوری کارروائی ضروری ہے۔




