
راہل گاندھی نے کہا کہ آسام کی سیاست کو نفرت اور تقسیم کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، جبکہ اس ریاست کی اصل پہچان اتحاد، بھائی چارہ اور ثقافتی ہم آہنگی رہی ہے۔ انہوں نے زوبین گرگ، گوپی ناتھ بوردولوئی، بھوپین ہزاریکا اور ترون گوگوئی جیسی شخصیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان اہم شخصیات نے ہمیشہ لوگوں کو جوڑنے کا کام کیا، نہ کہ انہیں تقسیم کرنے کا۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ پر الزام عائد کیا کہ وہ ریاستی وسائل کو عوامی مفاد کے بجائے اپنے قریبی حلقوں کے فائدے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ہزاروں بیگھہ زمین مختلف بڑی کمپنیوں اور شخصیات کو دی گئی، جو ایک منظم پالیسی کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ عمل آسام کے عوام کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔






