
دنیش شرما اپنے سخت عزم کے لیے بھی جانے جاتے ہیں۔ وہ گزشتہ چار برس سے اناج ترک کیے ہوئے ہیں اور صرف پھلوں پر گزارا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک جنم بھومی احاطے سے مسجد مکمل طور پر نہیں ہٹائی جاتی، وہ معمول کا کھانا قبول نہیں کریں گے اور ان کا یہ احتجاج بدستور جاری ہے۔
پھلاہاری کے اس مطالبے کے بعد ایک بار پھر معاشی بائیکاٹ کی بحث زور پکڑ گئی ہے۔ ایک طبقہ اسے تحفظ اور مذہبی پاکیزگی کا مسئلہ قرار دے رہا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ اسے سماجی ہم آہنگی اور گنگا جمنی تہذیب کے منافی سمجھتا ہے۔






