ہوائی اڈوں کا ’ہوائی منصوبہ‘… پنکج چترویدی

AhmadJunaidJ&K News urduApril 13, 2026358 Views


ہوائی اڈوں کے نام پر بن رہے منصوبوں سے فائدہ ان چند ایک لوگوں کو ہی ہوتا ہے جن کے تار حکومت سے جڑے ہوتے ہیں۔ سرکاری پیسوں سے تیار منصوبوں کو بالآخر چہیتے سرمایہ کاروں کو سونپ دیا جاتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>اڑان منصوبہ، تصویر سوشل میڈیا</p></div><div class="paragraphs"><p>اڑان منصوبہ، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

i

user

تقریباً 30 ہزار کروڑ روپے کے خرچ سے تیار نوئیڈا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا افتتاح کرنے میں بھی کئی کروڑ روپے خرچ ہو گئے۔ اشتہارات، بھیڑ جمع کرنے سے لے کر ہزاروں لوگوں کو ناشتہ تقسیم کرنے جیسے اخراجات میں سرکاری رقم کو کھلے ہاتھوں سے خرچ کیا گیا۔ تقاریر اور اشتہارات میں اتر پردیش کو پر لگنے کے دعوے کیے گئے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس ہوائی اڈے سے جہاز اڑانا فی الحال دور کی بات ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ایئرپورٹ بنانے والی کمپنی کے سی ای او سوئٹزرلینڈ کے ہیں اور بیورو آف سول ایوی ایشن سیکورٹی (بی کاس) کے 2011 کے قواعد کے مطابق ایئرپورٹ سیکورٹی پروگرام (اے ایس پی) کی منظوری حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سی ای او ہندوستانی ہو۔ حال یہ ہے کہ فی الحال تو کسی ہوابازی کمپنی کا عملہ بھی ہوائی اڈے میں داخل نہیں ہو سکتا۔

نوئیڈا ایئرپورٹ کا افتتاح 28 مارچ کو ہوا۔ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ایروڈرم ملنے کی تاریخ سے 45 دن کے اندر پرواز سروس شروع ہو جائے گی۔ اب حکومت اس معاملے میں درمیانی راستہ نکالنے میں مصروف ہے، تاکہ نوئیڈا ایئرپورٹ سے پروازیں شروع کی جا سکیں۔ وہیں اس منظوری کے بعد ہی ایئرپورٹ پر کام کرنے والے ملازمین کے لیے ایئرپورٹ انٹری پاس (اے ای پی) بن سکیں گے۔ جب تک یہ اجازت نہیں ملتی، تب تک ٹکٹ بکنگ ممکن نہیں ہے۔ پھر منظوری ملنے کے بعد 40 سے 60 دن کا وقت پرواز شروع ہونے میں لگے گا۔ اس سے واضح ہے کہ جون-جولائی سے پہلے یہاں سے پرواز شروع ہونے کا امکان نہیں ہے۔ ایسے میں یہ سوال بجا ہے کہ لازمی منظوریوں کے بغیر کس طرح وزیر اعظم نہ صرف ہوائی اڈے کا افتتاح کر دیتے ہیں بلکہ بڑے بڑے دعوے بھی کر دیتے ہیں۔

ہوائی اڈوں کی تعداد کے دعوؤں کے مقابلے میں ان سے ملنے والی سہولتوں کی ایک اور مثال دہلی کی مشرقی سرحد سے متصل ہنڈن ہوائی اڈہ ہے۔ اس کا افتتاح مارچ 2019 میں ہوا تھا لیکن تجارتی آپریشن 11 اکتوبر 2019 سے شروع ہو سکا۔ پھر کووڈ کی وجہ سے اس پر بریک لگ گیا۔ گزشتہ سال اپریل-مئی میں 25 پروازیں شروع ہو سکیں، لیکن اب ان میں سے صرف 7 ہی چل رہی ہیں۔ ایئر انڈیا ایکسپریس نے ہنڈن سول ٹرمینل سے اپنی تمام پروازیں مکمل طور پر بند کر دی ہیں۔ ریجنل ایئرلائن اسٹار ایئر نے راجستھان میں اجمیر کا کشن گڑھ روٹ بند کر دیا ہے۔ اس وقت یہاں سے صرف پنجاب میں جالندھر کے قریب آدم پور اور مہاراشٹر میں ناندیڑ کے لیے پروازیں چل رہی ہیں۔ ویسے ہنڈن ہوائی اڈے کی اپنی ہوائی پٹی نہیں ہے اور یہ فضائیہ کی پٹی کا استعمال کرتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہاں تک پہنچنا خود ایک مشکل کام ہے (سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں اور رکشہ سے لے کر ٹریکٹر تک یہاں بے دھڑک چلتے ہیں)، ایسے میں ایک کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے میں نصف گھنٹہ لگ جانا عام بات ہے۔

2021 کے بعد ملک میں کئی نئے ہوائی اڈے بنائے گئے اور وہ بھی بیشتر ’اُڑان اسکیم‘ کے تحت۔ اس حکومت کو مخففات کا خاص شوق ہے، اس لیے اُڑان کا پورا نام جاننا ضروری ہے، اُڑے دیش کا عام ناگرک (شہری)۔ نام تو اچھا ہے لیکن یہ جان کر کسی کو بھی مایوسی ہوگی کہ اس اسکیم کے تحت بنائے گئے ہوائی اڈوں میں سے بیشتر کم مسافروں کی تعداد، وی جی ایف اور دیگر وجوہات کی بنا پر غیر فعال ہیں۔ وی جی ایف ایک سرکاری گرانٹ ہے، جو خاص طور پر ’اُڑان اسکیم‘ کے تحت ایئرلائنز کو دی جاتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد چھوٹے شہروں کو ہوائی خدمات سے جوڑنا اور کم کرایہ پر پروازیں فراہم کرنا ہے۔ چونکہ مسافروں کی تعداد کافی کم ہے، اس لیے حکومت ایئرلائنز کو یہ گرانٹ دینے میں ہچکچاہٹ دکھاتی ہے۔ ایسے میں ایئرلائنز بھی اپنے قدم پیچھے کھینچ لیتی ہیں۔

ان ہوائی اڈوں کی اصل حالت کسی کو بھی معلوم ہونی چاہیے۔ اتر پردیش میں 7 نئے ایئرپورٹ شروع کیے گئے، جن میں سے 6 اب بند ہیں۔ 2021 میں مشرقی اتر پردیش میں کشی نگر ایئرپورٹ یہ کہہ کر شروع کیا گیا کہ اس سے بدھ سرکٹ کے مسافر متوجہ ہوں گے۔ کشی نگر میں ہی بھگوان بدھ کا ’پری نروان‘ ہوا تھا۔ کشی نگر سے گورکھپور 55 کلومیٹر دور ہے اور دونوں کے درمیان سڑک کے ذریعہ ایک گھنٹے میں آنا جانا ممکن ہے۔ 2 سال بعد 2013 میں ہی یہ ایئرپورٹ بند کر دیا گیا۔ اسی طرح مانا جاتا ہے کہ بدھ نے مشرقی اتر پردیش کے ہی شراوستی میں اپنے کئی سوتر (وعظ) دیے۔ یہاں 2024 میں ایئرپورٹ شروع ہوا اور اسی سال بند بھی ہو گیا۔ یہی حال علی گڑھ، چترکوٹ، اعظم گڑھ اور مراد آباد ایئرپورٹس کا ہے۔ یہ سب 2014 میں بنے، ان کے افتتاح ہوئے اور تب سے ہی بند ہیں۔

دسمبر 2025 میں راجیہ سبھا میں حکومت نے اعتراف کیا تھا کہ اتر پردیش میں نیا بنا صرف ایودھیا ہوائی اڈہ ہی کام کر رہا ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا تھا کہ گزشتہ 5 برسوں میں اتر پردیش، جھارکھنڈ اور بہار میں مجموعی طور پر 11 ہوائی اڈوں کا افتتاح کیا گیا لیکن ان میں سے صرف 4 پر ہی اس وقت باقاعدہ پروازیں چل رہی ہیں۔ یہ ہوائی اڈے ہیں دیوگھر (جھارکھنڈ)، پورنیہ (بہار) اور اتر پردیش کے کانپور و ایودھیا۔ مودی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ’اُڑان‘ اسکیم کے تحت اب تک 95 ہوائی اڈوں کو بحال کر کے انہیں قابل استعمال بنایا گیا ہے۔ ان میں ہیلی پورٹ اور واٹر ایروڈرم بھی شامل ہیں۔ لیکن ان میں سے تقریباً 15 ہوائی اڈے اس وقت مکمل طور پر بند ہیں جبکہ اسکیم کے تحت شروع کیے گئے 663 راستوں میں سے تقریباً 327 راستے (تقریباً 50 فیصد) بند ہو چکے ہیں۔ جو 15 ہوائی اڈے فعال نہیں ہیں، ان پر حکومت نے تقریباً 900 کروڑ روپے خرچ کیے۔ حکومت وی جی ایف کے تحت اب تک 4,300 کروڑ روپے سے زیادہ کی سبسڈی تقسیم کر چکی ہے، جن میں سے ایک بڑا حصہ ان راستوں پر گیا جو اب بند ہو چکے ہیں۔

سرکاری رقم کی اتنی بربادی اور ناکامی کے باوجود حکومت نے مارچ 2026 میں ’ترمیم شدہ اُڑان‘ اسکیم شروع کی ہے۔ اس کے لیے 28,840 کروڑ روپے کا بھاری بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ اس میں سبسڈی کی مدت 3 سال سے بڑھا کر 5 سال کر دی گئی ہے۔ اس کے تحت 100 نئے ہوائی اڈے ڈیولپ کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہوائی اڈوں کے نام پر بننے والی اسکیموں سے آس پاس کی زمینوں کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور رئیل اسٹیٹ کی ترقی ہونے لگتی ہے، جس کا فائدہ چند ہی لوگوں کو ہوتا ہے، جن کے روابط اقتدار سے جڑے ہوتے ہیں۔ سرکاری رقم سے تیار کی گئی اسکیموں کو آخرکار پسندیدہ سرمایہ داروں کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔


0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...