ہنر، محنت اور خاموش جدوجہد کی کہانی…کاشفہ وصال

AhmadJunaidJ&K News urduApril 12, 2026358 Views


مونا جیسے کاریگر آسام سے آنے والے بانس کو مقامی بیوپاریوں سے مہنگے داموں خریدتے ہیں، جس سے ان کا منافع بہت کم رہ جاتا ہے۔

وہ بتاتی ہیں، ’’چھوٹی بانسری پانچ سے دس روپے میں اور بڑی تقریباً بیس روپے میں بکتی ہے۔‘‘ لیکن یہی بانسری بازار میں 50 روپے تک فروخت ہوتی ہے۔

مونا کے شوہر شکیل ہر ماہ امرتسر جا کر میلوں میں بانسری بیچتے ہیں مگر یہ آمدنی غیر مستقل ہے اور مالی مشکلات دور کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ اکثر وہ تیار شدہ بانسریاں اسی بیوپاری کو کم قیمت پر واپس بیچ دیتے ہیں جس سے انہوں نے بانس خریدا ہوتا ہے۔

یوں وہ قرض اور انحصار کے ایک ایسے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں جس سے نکلنا آسان نہیں۔ وہ آج بھی 6.4 فیصد شرح سود پر لیے گئے قرض کی ہر ماہ ایک ہزار روپے قسط ادا کر رہے ہیں مگر مسلسل خسارے کے باعث قرض ابھی تک ختم نہیں ہو سکا۔

(بشکریہ ruralindiaonline.org)

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...