
راہل گاندھی نے اپنی تقریر کا آغاز مارشل آرٹ کی مثال سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مارشل آرٹ میں پہلے گرفت بنتی ہے اور پھر چوک کے ذریعے حریف کو بے بس کیا جاتا ہے۔ سیاست میں بھی یہی ہوتا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ یہاں گرفت دکھائی نہیں دیتی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان-امریکہ معاہدہ اسی ’چوک‘ کی مثال ہے۔ ان کے بقول، ’’ہم نے اپنی عوام کو امریکہ کے ہاتھوں بیچ دیا۔‘‘
انہوں نے اقتصادی سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا جیو پولیٹیکل ٹکراؤ کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ چین، روس اور دیگر طاقتیں امریکہ کی بالادستی کو چیلنج کر رہی ہیں۔ توانائی اور مالیاتی نظام کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم اور قومی سلامتی کے مشیر کے اس بیان پر بھی انہوں نے سوال اٹھایا کہ جنگ کا دور ختم ہو گیا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ حقیقت اس کے برعکس ہے اور دنیا غیر یقینی مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔






