ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کے لیے پی ایم مودی جلد بازی میں تھے، کیونکہ وہ ’کمپرومائزڈ‘ ہیں: کانگریس

AhmadJunaidJ&K News urduFebruary 21, 2026358 Views


کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرتے وقت وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستان کے مفادات اور وقار کی ذرا بھی فکر نہیں کی، ایک بار بھی نہیں سوچا۔

<div class="paragraphs"><p>کمپرومائزڈ، گرافکس ’ایکس‘ <a href="https://x.com/INCIndia">@INCIndia</a></p></div><div class="paragraphs"><p>کمپرومائزڈ، گرافکس ’ایکس‘ <a href="https://x.com/INCIndia">@INCIndia</a></p></div>

i

user

ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہوئے تجارتی معاہدہ کی کانگریس پہلے سے ہی تنقید کر رہی تھی، اب امریکی سپریم کورٹ کے ذریعہ صدر ٹرمپ کے عائد کردہ گلوبل ٹیرف کو نامنظور کیے جانے سے نیا ہنگامہ شروع ہو گیا ہے۔ کانگریس کے سرکردہ لیڈران یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ ’ریسپروکل ٹیرف‘ پر سپریم کورٹ میں سماعت چل رہی تھی، تو پی ایم مودی کو تجارتی معاہدہ کی جلدبازی کیوں تھی؟ کیا وہ امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے تک انتظار نہیں کر سکتے تھے؟

اس بارے میں کانگریس ترجمان سپریا شرینیت نے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے، جس میں کئی طرح کے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اس ویڈیو کو کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر بھی کیا ہے۔ اس میں سپریا اسی سوال پر زور دے رہی ہیں کہ آخر ’’تجارتی معاہدہ پر مودی اتنی جلدی میں کیوں تھے؟‘‘ وہ کہتی ہیں کہ ’’20 فروری 2026، امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کے ’ریسپروکل ٹیرف‘ پر روک لگا دی۔ اس کے جواب میں ٹرمپ نے 1974 کے ٹریڈ ایکٹ کی دفعہ 122 کا حوالہ دے کر سبھی ممالک سے درآمدات پر 10 فیصد کا نیا گلوبل ٹیرف لگایا۔ یعنی امریکی سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد اب ہندوستان کو 10 فیصد ٹیرف دینا ہوگا۔‘‘

ویڈیو میں سپریا شرینیت امریکی سپریم کورٹ کے ذریعہ دیے گئے فیصلہ سے قبل ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کے اصول و ضوابط کا بھی ذکر کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’فروری کے ابتدا میں امریکہ اور ہندوستان نے تجارتی معاہدہ کا اعلان کیا تھا، جس میں ہندوستانی سامانوں پر ٹیرف 18 فیصد طے کیا گیا تھا۔ لیکن ہندوستان نے تمام امریکی سامانوں پر ٹیرف 0 فیصد کرنے اور 5 سال میں امریکہ سے 500 ارب ڈالر کے سامان خریدنے کا وعدہ کیا۔ ہندوستان نے روس سے سستی شرح پر خام تیل خریدنا بند کرنے کا بھی وعدہ کیا۔‘‘ ان باتوں کو سامنے رکھنے کے بعد سپریا شرینیت کچھ تلخ سوالات سامنے رکھتی ہیں، جو اس طرح ہیں:

  • تجارتی معاہدہ کے لیے اتنی جلد بازی کیوں دکھائی گئی، سپریم کورٹ کے فیصلہ کا انتظار کیوں نہیں کیا گیا؟

  • تجارتی معاہدہ مہینوں سے زیر التوا تھا، اچانک مودی نے اسے کیوں آگے بڑھایا اور صرف 30 منٹ کی فون کال پر حمایت کیوں دی؟

  • امریکہ سے اتنے بڑے پیمانے پر درآمدات کو منظوری کیوں دی، اور اس کی مصنوعات پر ٹیرف 0 فیصد کیوں کیا؟

  • کسانوں کے مفادات کی قربانی کیوں دی؟

  • اپنا سارا ڈاٹا امریکہ کو تھالی میں رکھ کر کیوں پروسا؟

  • روسی تیل نہ خریدنے کا وعدہ کر توانائی سیکورٹی سے سمجھوتہ کیوں کیا؟

  • ہم بے وقوفی میں 3 فیصد ٹیرف کے 6 گنا بڑھ کر 18 فیصد ہو جانے پر جشن کیوں منا رہے تھے؟

ان سبھی سوالوں کو سامنے رکھنے کے بعد سپریا شرینیت نے انتہائی بے باکی کے ساتھ اس کا جواب بھی پیش کیا ہے۔ انھوں نے ویڈیو میں کہا ہے کہ ’’ان سبھی سوالوں اور دیگر سوالوں کا جواب ہے ’کمپرومائزڈ وزیر اعظم‘، جو ہندوستان کے ساتھ سمجھوتہ کر کے بیٹھا ہے۔‘‘ وہ آگے کہتی ہیں کہ ’’ایپسٹین فائلوں میں پی ایم اور ان کے وزراء کے نام آنے کے بعد وہ دباؤ میں جھک گئے۔ امریکہ میں اڈانی کے گلے میں پھندا کسنے کے بعد پی ایم ڈر گئے۔ اس لیے انھوں نے ہندوستان کے مفادات اور ہمارے وقار کی قربانی دیتے ہوئے ایک بار بھی نہیں سوچا۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...