
روس اور یوکرین کی جنگ نے عالمی توانائی کے توازن کو یکسر بدل دیا ہے۔ مغربی ممالک کی طرف سے روس پر معاشی پابندیاں لگنے کے بعد روسی تیل کے خریداروں میں ایک بڑی کمی آ گئی، لیکن اسی دوران ہندوستان نے روس سے بڑی مقدار میں رعایتی قیمت پر خام تیل خریدنا شروع کر دیا۔ ابتدا میں یہ فیصلہ محض معاشی نفع کے طور پر دیکھا گیا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ معاملہ صرف توانائی یا تجارت کا نہیں رہا بلکہ اس کے سفارتی اور جغرافیائی پہلو بھی نظر آنے لگے۔
سب سے پہلا اور ظاہری فائدہ تو معاشی ہے۔ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا تیل درآمد کرنے والا ملک ہے، جو اپنی توانائی کی ضروریات کا تقریباً 85 فیصد بیرون ملک سے حاصل کرتا ہے۔ ایسے میں جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی تھیں، روس نے اپنی مشکلات کم کرنے کے لیے ہندوستان کو بھاری رعایت پر تیل دینا شروع کیا۔






