
مودی شاید یہ سوچتے ہوں کہ وہ دونوں طرف توازن قائم رکھ سکتے ہیں، لیکن ٹرمپ نے بارہا دکھایا ہے کہ وہ ابہام برداشت نہیں کرتے۔ چین بھی ہندوستان کو کوئی خاص رعایت نہیں دے گا۔ بیجنگ ہندوستانی اقدامات کو مایوسی پر مبنی اور موقع پرستانہ سمجھتا ہے۔ چینی تجزیہ کار ہندوستان کو انڈو-پیسفک میں حریف اور جنوبی ایشیا میں رکاوٹ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک امریکہ کے ساتھ ہندوستانی قربت، ویتنام و فلپائن کے ساتھ اس کا دفاعی تعاون اور تائیوان کے ساتھ رابطے دشمنی کے ثبوت ہیں۔ اس وقت اگر کوئی صورتحال سامنے ہے تو وہ زیادہ سے زیادہ ’سرد امن‘ کی ہے، بالفاظ دیگر، نہ کوئی بڑا تصادم اور نہ ہی پائیدار صلح۔
المیہ یہ ہے کہ ایک وقت تھا جب مودی ہندوستان کی ’تاریخی جھجک‘ سے نکل کر دنیا میں جرات مندانہ کردار ادا کرنے پر فخر کرتے تھے۔ آج ہندوستان ایسی حالت میں ہے کہ روسی ہتھیاروں پر انحصار کے باعث ماسکو کو چھوڑ نہیں سکتا، چین کے بارے میں اتنی بے یقینی ہے کہ اس پر اعتماد نہیں کر سکتا اور امریکی بازاروں اور اقتدار کے مراکز کے سامنے اتنا بے نقاب ہے کہ واشنگٹن کو ناراض بھی نہیں کر سکتا۔ مودی کا داؤ یہ ہے کہ تیانجن جا کر وہ تینوں رشتوں کو بچا سکیں گے، لیکن زیادہ امکان یہی ہے کہ وہ کسی کو بھی مطمئن نہیں کر پائیں گے اور جس پر اب تک انحصار کرتے آئے تھے، اس سے مزید دور ہو جائیں گے۔
(مضمون نگار اشوک سوین سویڈن کی اپسالا یونیورسٹی میں امن و تنازعات کے پروفیسر ہیں)




