ہندوستان کو ہونے والی شرمندگی اور سفارتکاری کو لگنے والے جھٹکے پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں ایس جے شنکر: جے رام رمیش

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 26, 2026361 Views


جے رام رمیش نے کہا کہ ’’مغربی ایشیا میں جاری جنگ کو ختم کرانے کے لیے مذاکرات میں پاکستان کا بطور ثالث اور پہل کرنے والے ملک کے طور پر سامنے آنا، ہندوستان کی سفارتکاری کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>جے رام رمیش / آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>جے رام رمیش / آئی اے این ایس</p></div>

i

user

کانگریس نے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور وزیر اعظم نریندر مودی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ پارٹی کے سکریٹری جنرل جے رام رمیش نے کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری جنگ کو ختم کرانے کے لیے مذاکرات میں پاکستان کا بطور ثالث اور پہل کرنے والے ملک کے طور پر سامنے آنا، ہندوستان کی سفارتکاری کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے وزیر خارجہ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ایس جے شنکر ہندوستان کو ہونے والی شدید شرمندگی اور علاقائی سفارتکاری کو لگنے والے جھٹکے پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ مغربی ایشیا کے بحران پر ہوئی آل پارٹی میٹنگ کے بعد وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پاکستان کو ’دلال ملک‘ کہا تھا۔ اس بیان کو بنیاد بنا کر کانگریس نے مرکزی حکومت پر سخت تنقید کیا ہے اور کہا ہے کہ گلے لگنے والی سفارتکاری مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ کانگریس کا الزام ہے کہ آج حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ کمزور ملک بھی ’دلال‘ بننے کی پوزیشن میں نظر آ رہا ہے، جو ہندوستان کی خارجہ پالیسی پر سوال کھڑے کرتا ہے۔

کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے جمعرات کو اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں لکھا کہ ’’وزیر خارجہ نے گزشتہ رات کہا تھا کہ ہندوستان کوئی بروکر (دلال) ملک نہیں ہے۔ یہ اپنی جگہ درست ہو سکتا ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ ہماری سفارتکاری، عالمی رابطے اور بیانیہ کے انتظام میں بڑے پیمانے پر ناکامیوں نے ایک ٹوٹے ہوئے ملک کو ’بروکر‘ ملک بنا دیا ہے۔ یہی خود ساختہ وشو گرو کا ہمارے سفارتی ریکارڈ میں ایک ایسا انوکھا تعاون ہے، جسے وزیر خارجہ کے کتنے بھی ون-لائنر مٹا نہیں سکتے۔‘‘

کانگریس لیڈر نے پاکستان کی سیاہ تاریخ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ واقعی انتہائی قابل اعتراض ہے کہ پاکستان کو اس کردار کے لیے موزوں سمجھا جا رہا ہے۔ یہ وہی ملک ہے جس کے ریاستی نظام نے 4 دہائیوں سے زائد عرصے تک ہندوستان سمیت کئی ممالک میں میں دہشت گردی کی سرپرستی کی اور اس کی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کیا۔ اسامہ بن لادن اور دیگر خطرناک عالمی دہشت گردوں کو دہائیوں تک پناہ دی۔ افغانستان میں اسپتالوں اور شہری ٹھکانوں پر بے رحمی سے بمباری کی اور مختلف صوبوں – بلوچستان، خیبر پختونخوا اور دیگر علاقوں میں اپنے ہی شہریوں اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف جنگ چھیڑی۔‘‘

جے رام رمیش نے وزیراعظم مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے لکھا کہ ’’پاکستان کو ثالثی کے کردار کے لیے بھی موزوں سمجھا جانا، وزیراعظم کی سفارتکاری کی حقیقت اور اس کے طریقے دونوں پر ایک انتہائی سنگین الزام ہے، جو بڑے بڑے دعووں اور بزدلی کی علامت رہی ہے۔ یاد کیجیے کہ 26/11 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے بعد پاکستان بین الاقوامی سطح پر اکیلا پڑ گیا تھا، کیونکہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت دنیا کو پاکستان کے سازشی کردار کے بارے میں سمجھانے میں کامیاب رہی تھی۔ اس کے برعکس 22 اپریل 2025 کو پہلگام دہشت گردانہ حملوں کی پس منظر تیار کرنے والے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کے فرقہ وارانہ طور پر اشتعال انگیز اور زہریلے بیانات کے بعد بھی ہم پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے میں ناکام رہے۔ بلکہ وہ اور زیادہ اہم کھلاڑی کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے، اور 10 مئی 2025 کے بعد تو یہ صاف ہو گیا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کے پسندیدہ بن چکے تھے۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...