’ہندوستان کو روس سے تیل درآمدگی کی اجازت دینے یا نہ دینے کا حق امریکہ کو کس نے دیا؟‘ کانگریس کا سوال

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 6, 2026360 Views


پون کھیڑا نے کہا کہ مودی حکومت امریکہ کی کٹھ پتلی بن کر ہندوستان کے مفادات کے ساتھ سمجھوتہ کر رہی ہے۔ مودی امریکہ کے سامنے پوری طرح جھک گئے ہیں اور انھیں ایپسٹین فائلس کا ڈر ہے۔

<div class="paragraphs"><p>پون کھیڑا، ویڈیو گریب</p></div><div class="paragraphs"><p>پون کھیڑا، ویڈیو گریب</p></div>

i

user

جنگ والے حالات میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے حکومت ہند کو رعایت دی ہے کہ وہ 30 دنوں تک روس سے تیل درآمد کر سکتی ہے۔ اس معاملہ میں کانگریس نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ پارٹی نے سوال اٹھایا ہے کہ ہندوستان کو روس سے تیل درآمد کرنے کی اجازت دینے یا نہ دینے کا اختیار امریکہ کو کس نے دیا؟

کانگریس دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے ترجمان اور میڈیا و تشہیر شعبہ کے سربراہ پون کھیڑا نے کہا کہ مودی حکومت امریکہ کی کٹھ پتلی بن کر ہندوستان کے مفادات کے ساتھ سمجھوتہ کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی امریکہ کے سامنے پوری طرح جھک گئے ہیں اور انہیں ’ایپسٹین فائلز‘ کا ڈر ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کو روس سے تیل خریدنے کے لیے 30 دن کی چھوٹ ملنا کوئی احسان نہیں بلکہ ایک افسوسناک صورت حال ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا اب تیل درآمد کرنے کے لیے بھی امریکہ سے لائسنس لینا پڑے گا؟

پون کھیڑا کا کہنا ہے کہ تجارتی معاہدے پر ابھی دستخط بھی نہیں ہوئے، لیکن شرائط اور پابندیاں ہندوستان پر پہلے ہی نافذ ہو گئی ہیں۔ کھیڑا نے سوال اٹھایا کہ کیا ایک سمجھوتہ کر چکی کابینہ اور سمجھوتہ کر چکے وزیر اعظم ملک کے ساتھ انصاف کر سکتے ہیں؟ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مودی حکومت اب اپنی آزاد خارجہ پالیسی طے کرنے کے بجائے امریکہ و اسرائیل کی کٹھ پتلی بن گئی ہے۔

کانگریس لیڈر نے کہا کہ روس پہلے ہی ہندوستان کو تیل دینے کے لیے تیار تھا اور ہندوستان برسوں سے روس سے تیل خریدتا رہا ہے، لیکن اس کے باوجود حکومت نے اس معاملے پر اپنا موقف واضح نہیں کیا۔ حکومت نے اس موضوع پر پہلے ذرائع کے حوالہ سے میڈیا میں خبریں چلوا دیں، جن میں آسٹریلیا، کناڈا، متحدہ عرب امارات اور امریکہ سے تیل خریدنے کے امکانات کا ذکر کیا گیا، لیکن روس کا نام نہیں لیا گیا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ امریکہ کی اجازت کے بغیر مودی حکومت روس کا نام کیسے لے سکتی تھی۔ موجودہ حکومت کی پالیسیوں سے ہندوستان کی خود مختاری اور آزاد فیصلہ کرنے کی صلاحیت کمزور ہو رہی ہے۔

اپنی بات کو مضبوط سے رکھتے ہوئے کھیڑا نے کچھ ویڈیوز بھی دکھائیں۔ 14 فروری 2026 کو منعقد میونخ سیکورٹی کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے نوآبادیاتی خواب پورا کرنے کی بات کی۔ انہوں نے امریکہ کے نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈو کے حالیہ رائے سینا ڈائیلاگ میں دیے گئے بیان پر بھی سخت اعتراض کیا، جسے وزیر خارجہ ایس جے شنکر خاموشی سے سنتے رہے۔ کھیڑا نے بتایا کہ لینڈو نے کہا تھا کہ چین کے ساتھ امریکہ 20 سال پہلے کی گئی غلطیاں ہندوستان کے ساتھ نہیں دہرائے گا اور یہ یقینی بنائے گا کہ سب کچھ امریکہ کے عوام کے لیے منصفانہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ باتیں دہلی میں اسی پلیٹ فارم سے کہی گئیں جہاں وزیر اعظم نریندر مودی بھی موجود تھے۔ کھیڑا نے اے آئی سمٹ میں وائٹ ہاؤس کے سینئر پالیسی مشیر شری رام کرشنن کے بیان کا بھی ذکر کیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ڈاٹا اور بازار ہندوستان کا ہوگا لیکن اے آئی کا انفراسٹرکچر امریکہ کا ہوگا۔

کھیڑا نے مرکزی وزیر ہردیپ پوری کو بھی پریس کانفرنس میں نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ وہ امریکی ٹائم زون کے مطابق چلتے ہیں۔ جب بھی وہ اپنے دفتر کی کوئی فائل اٹھاتے ہیں تو شاید انہیں ایپسٹین کی فائلیں یاد آ جاتی ہیں اور وہ خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔ کانگریس کے ترجمان نے راہل گاندھی کی پارلیمنٹ میں دی گئی تقریر کی ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مستقبل میں امریکہ طے کرے گا کہ ہندوستان کس سے تیل خریدے گا اور کس سے نہیں۔ کھیڑا نے کہا کہ راہل گاندھی کی بات ایک بار پھر سچ ثابت ہوئی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد راہل گاندھی نے وزیر اعظم مودی سے تجارتی معاہدے کو فی الحال مؤخر رکھنے کی اپیل کی تھی، لیکن وزیر اعظم مودی میں اس سے پیچھے ہٹنے کی ہمت نہیں ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...