ہندوستان اور برازیل کے رشتوں میں آج ایک نئے باب کا آغاز دیکھنے کو ملا۔ ان دونوں ممالک کے درمیان اہم تجارتی معاہدے پر دستخط ہوئے، جس کے مثبت نتائج آنے والے دنوں میں دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی اور برازیل کے صدر لوئز ایناسیو لولا دا سلوا کے درمیان ہونے والی دوطرفہ ملاقات میں کچھ ایسے اہم امور پر اتفاق قائم ہوا، جو دونوں ممالک کی معیشت کو نئی رفتار دے سکتے ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستان اور برازیل کے درمیان تجارتی معاہدہ پر ہوئے دستخط کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ انھوں نے برازیلی صدر لولا اور ان کے وفد کا ہندوستان میں خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ’’مجھے صدر لولا اور ان کے وفد کا ہندوستان میں استقبال کرتے ہوئے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔ ان کے ویژن اور متاثر کن قیادت سے ہندوستان-برازیل تعلقات کو طویل عرصے سے فائدہ پہنچا ہے۔‘‘
وزیر اعظم نریندر مودی کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں دونوں رہنماؤں کے درمیان کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں اور ہر بار ہندوستان کے تئیں صدر لولا کی گہری دوستی اور اعتماد کو واضح طور پر محسوس کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر لولا کا یہ دورہ تاریخی اے آئی امپیکٹ سمٹ کو بھی نئی توانائی دیتا ہے اور دونوں ممالک کی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط کرتا ہے۔
پی ایم مودی نے بتایا کہ برازیل کئی طرح سے لاطینی امریکہ میں ہندوستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ دونوں ممالک آئندہ 5 برسوں میں دوطرفہ تجارت کو 20 ارب ڈالر سے آگے لے جانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہماری تجارت محض ایک عدد نہیں بلکہ باہمی اعتماد کی عکاسی ہے۔ صدر لولا کے ساتھ آیا بڑا تجارتی وفد اسی اعتماد کی نشاندہی کرتا ہے۔‘‘ پی ایم مودی مزید کہتے ہیں کہ ’’ٹیکنالوجی اور اختراع میں تعاون صرف ہندوستان اور برازیل کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے گلوبل ساؤتھ کے لیے اہم ہے۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور اسٹارٹ اَپ ایکو سسٹم میں شراکت داری سے ترقی پذیر ممالک کو بھی نئی سمت مل سکتی ہے۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔



































