
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے منگل کو ہندوستان-امریکہ عبوری تجارتی معاہدے کے فریم ورک پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے مرکز کی مودی حکومت پر قومی مفادات کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے اس معاہدے کو ’پی آر میں لپٹا ہوا دھوکہ‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آیا یہ سمجھوتہ ہندوستان کی تزویراتی خودمختاری اور معاشی مفادات کا تحفظ کرتا بھی ہے یا نہیں!
کھڑگے نے کہا کہ 6 فروری کو جاری مشترکہ بیان میں روسی تیل کی خریداری کا کوئی ذکر نہیں تھا، حالانکہ اس وقت ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے اس بارے میں اشارے کیے گئے تھے۔ ان کے مطابق 9 فروری کو وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری حقائق نامہ میں واضح طور پر درج ہے کہ اضافی 25 فیصد امریکی محصول ہٹانے کے لیے ہندوستان کو روس سے تیل کی خرید بند کرنے کا عہد کرنا ہوگا۔






