
سرجے والا نے دعویٰ کیا کہ گاؤں سے صرف 350 میٹر کی دوری پر بلاسٹنگ (پتھر توڑنے کے لیے کیا جانے والا دھماکہ) ہو رہی ہے۔ یہاں روزانہ تقریباً 12 دھماکے کیے جاتے ہیں اور روزانہ 900 سے زائد ڈمپر معدنیات کے ساتھ نقل و حمل کرتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان دھماکوں کی وجہ سے گھروں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ بہت زیادہ دھول مٹی اور آلودگی پھیل رہی ہے اور شہریوں کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس سے مویشی بھی متاثر ہوئے ہیں۔ کانگریس لیڈر سرجے والا کا کہنا ہے کہ 33.10 ہیکٹیئر سے زیادہ کے لیے دی گئی کانکنی کی اجازت کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بی جے پی حکومت پر غیر قانونی کانکنی کو نظر انداز کر کے ماحولیات اور لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کا سنگین الزام عائد کیا۔




