
جو کسان برآمد کے لیے آم نہیں اگاتے، وہ بھی پریشان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جیسے ہی برآمدی مانگ کم ہوتی ہے، گھریلو بازار میں پھلوں کی بھرمار ہو جاتی ہے اور قیمتیں گر جاتی ہیں۔
آم کا سیزن ابھی پوری طرح شروع نہیں ہوا، لیکن تربوز کے کاشتکار پہلے ہی متاثر ہو چکے ہیں۔ 2023 کے اعداد و شمار کے مطابق، ہندوستان نے خلیجی ممالک کو تقریباً 2.2 لاکھ کلوگرام تربوز برآمد کیا تھا۔ رمضان کے دوران اس کی مانگ سب سے زیادہ ہوتی ہے، مگر اس سال کوئی کھیپ نہیں بھیجی گئی۔
کسانوں کے لیے یہ صورتحال ایک اچانک جھٹکے کی طرح ہے۔ ایک کسان رہنما نے بتایا کہ ہم ابھی ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدے کے اثرات کو سمجھ ہی رہے تھے کہ جنگ نے نئی مشکلات کھڑی کر دیں۔






