
ایرانی کمانڈر نے کہا کہ “اہم دستاویزات جلائیں، کمپیوٹرز سے تمام ہارڈ ڈرائیوز نکالیں” اور بتایا کہ “اب سب ختم، ہم آپ کے ذمہ دار نہیں، آپ کی شناختی دستاویزات چند دن میں پہنچ جائیں گے”۔ سابق افسر نے کہاکہ “یہ پہلے سے طے شدہ منصوبہ لگ رہا تھا، مگر ہمارے لیے اچانک تھا۔ ہمیں اندازہ تھا کہ حالات خراب ہیں، مگر اتنے خراب ہیں یقین نہیں تھا جبکہ پچھلی حکومت حلب سے حماہ تک زمین پر متواتر نقصانات اٹھا رہی تھی۔افسر اور اس کے ساتھیوں کو ایک ماہ کی تنخواہ پیشگی دی گئی ۔پھر وہ حیران ہو کر اپنے گھروں واپس گئے۔ دو دن بعد آٹھ دسمبر کی صبح حکومت کا خاتمہ ہوا اور اسد فرار ہوگیا۔ (بشکریہ نیوز پورٹل ’العربیہ ڈاٹ نیٹ، اردو‘)






