
یہ برفباری ایسے وقت میں ہوئی جب باغبان اپنی فصل کو منڈیوں میں بھیجنے کی تیاری میں مصروف تھے۔ لاہول کے مقامی باغبان چیتن نے خبررساں ایجنسی آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’ہم نے تاجروں سے بات کر لی تھی اور مال روانہ کرنے والے تھے لیکن اب باغات کی حالت دیکھ کر دل ٹوٹ گیا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سے امداد کی امید ہے تاکہ نقصان کی کچھ تلافی ہو سکے۔
کئی باغبانوں نے بتایا کہ اس سال کی صورتحال انہیں 2018 کی یاد دلاتی ہے، جب اسی طرح کی برفباری سے علاقے کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ اس بار بھی برف کی موٹی تہہ نے درختوں کو جھکا دیا، شاخیں ٹوٹ گئیں اور فصل زمین بوس ہو گئی۔





