ہریانہ حکومت نے اشوکا یونیورسٹی کے پروفیسر علی خان محمودآباد کے خلاف مقدمہ واپس لیا

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 16, 2026358 Views


ہریانہ پولیس نے گزشتہ سال 18 مئی کو اشوکا یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر علی خان محمودآباد کو گرفتار کیا تھا۔ یہ معاملہ آپریشن سیندور سے متعلق ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر ان کے تبصرے سے جڑا ہوا تھا۔ ان کے خلاف دو ایف آئی آر درج کی گئی تھیں، جن کے بارے میں اب ہریانہ حکومت نے سپریم کورٹ کو مطلع کیا ہے کہ اس نے اس معاملے میں مقدمہ چلانے کی منظوری نہیں دی ہے۔

علی خان محمود آباد۔ (تصویر: فیس بک)

نئی دہلی: ہریانہ حکومت نے سوموار  (16 مارچ) کو سپریم کورٹ کو مطلع کیا کہ اس نے اشوکا یونیورسٹی کے پروفیسر علی خان محمودآباد کے خلاف آپریشن سیندور سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹ کے معاملے میں مقدمہ چلانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

نیو انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، ہریانہ حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوائے مالیا باگچی کی بنچ کو بتایا کہ انہوں نے پروفیسر محمودآباد کے خلاف مقدمہ چلانے کی منظوری نہیں دی ہے۔

پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، راجو نے بنچ کو بتایا؛’ایک بار کی رعایت دیتے ہوئے ہم نے اس معاملے کو بند کر دیا ہے اور منظوری دینے سے انکار کر دیا ہے۔’

سپریم کورٹ نے اس بیان کو ریکارڈ پر لیتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد متعلقہ نچلی عدالت میں زیر التوا کارروائی ختم تصور کی جائے گی۔

معلوم ہو کہ عدالت پروفیسر محمودآباد کی اس درخواست پر سماعت کر رہی تھی جس میں انہوں نے اس کیس کو منسوخ کرنے کی اپیل کی تھی۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت سے اس معاملے پر دوبارہ غور کرنے اور پروفیسر محمودآباد کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت نہ دے کر کیس بند کرنے کی اپیل کی تھی۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال مئی میں عدالت نے پروفیسر کو عبوری راحت دیتے ہوئے حکومت کو ہدایت دی تھی کہ ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم(ایس آئی ٹی) تشکیل دی جائے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ محمودآباد کی پوسٹ کوئی مجرمانہ سرگرمی تھی یا نہیں۔

گزشتہ6جنوری کو سپریم کورٹ نے محمودآباد کے خلاف ایف آئی آر میں ہریانہ ایس آئی ٹی کی جانب سے دائر کردہ چارج شیٹ پر نچلی عدالت کو نوٹس لینے سے روکنے والے اپنے حکم میں توسیع کر دی تھی۔

سپریم کورٹ نے یہ حکم اس کے بعد دیا تھا جب ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے عدالت کو بتایا کہ اگرچہ اس معاملے میں اگست 2025 میں چارج شیٹ دائر کی گئی تھی، لیکن ہریانہ حکومت کی طرف سے اس کی منظوری نہیں دی گئی ہے۔

گزشتہ سال 18 مئی کو گرفتار کیا گیا تھا

غور طلب ہے کہ ہریانہ پولیس نے گزشتہ سال 18 مئی کو اشوکا یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر علی خان محمودآباد کو گرفتار کیا تھا۔ یہ معاملہ آپریشن سیندور پر ہونے والی پریس بریفنگ کے بارے میں ان کے تبصرے سے متعلق تھا۔ ان کے خلاف دو ایف آئی آر درج کی گئی تھیں، جن میں ہندوستان میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کے بارے میں ان کی سوشل میڈیا پوسٹ شامل تھیں۔

یہ پوسٹ کرنل صوفیہ قریشی کی جانب سے آپریشن سیندور کی پریس بریفنگ کی قیادت کرنے کی تعریف کے تناظر میں کی گئے تھے۔

دونوں ایف آئی آر میں سے ایک ہریانہ اسٹیٹ ویمن کمیشن کی چیئرپرسن رینو بھاٹیا کی شکایت پر درج کی گئی تھی، جبکہ دوسری بی جے پی یوتھ مورچہ کے جنرل سیکریٹری یوگیش جٹھیری -جو ہریانہ کے ایک گاؤں کے سرپنچ بھی ہیں – نے جذبات مجروح ہونے کے الزام میں درج کروائی تھیں۔

محمودآباد پر بھارتیہ نیائے سنہتا(بی این ایس) کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، جن میں دفعہ 152(ہندوستان کی خودمختاری یا اتحاد و سالمیت کو خطرے میں ڈالنے والے کام)، دفعہ 353(عوامی بدامنی کو بڑھاوا دینے والے بیانات)،دفعہ 79( کسی عورت کے وقارکو ٹھیس پہنچانے کی نیت سے جان بوجھ کرکی گئی کارروائی)، دفعہ 196(1)( مذہب کی بنیاد پر مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا)  شامل ہیں۔

محمودآباد کی گرفتاری پر ماہرین تعلیم اور اپوزیشن جماعتوں نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس اقدام کو قابل مذمت قرار دیا تھا۔

اس معاملے میں سپریم کورٹ نے 21 مئی 2025 کو سخت شرائط کے ساتھ محمودآباد کو عبوری ضمانت دے دی تھی۔ عدالت نے ان کے سوشل میڈیا پوسٹ کی جانچ کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا بھی حکم دیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے کہا تھا کہ وہ اس معاملے پر نہ تو لکھ سکتے ہیں اور نہ  ہی تقریر کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ عدالت نے محمودآباد کو اپنا پاسپورٹ جمع کرانے کو بھی کہا گیا تھا۔

اس کیس کے سلسلے میں سپریم کورٹ نے ایک غیر معمولی نوٹ میں یہ بھی کہا تھا کہ اگر طلبا اور پروفیسر، جو بظاہر اشوکا یونیورسٹی سے تعلق رکھتے ہیں،’کچھ بھی کرنے کی ہمت کرتے ہیں تو ہم اسے قبول نہیں کریں گے۔ اگر وہ ہاتھ ملانے وغیرہ کی کوشش کرتے ہیں تو ہم جانتے ہیں کہ ایسے لوگوں سے کیسے نمٹا جاتا ہے، کیونکہ وہ ہمارے دائرہ اختیار میں ہیں۔’

اس کے بعد جولائی 2025 کی ایک سماعت میں سپریم کورٹ نے اس کیس کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی سرزنش کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ ایس آئی ٹی خود کو گمراہ کیوں کر رہی ہے۔ عدالت نے سوال اٹھایا تھا کہ جب اس کی تفتیش کا دائرہ صرف دو ایف آئی آر تک محدود ہے تو پھر وہ اس کو غلط سمت میں کیوں  لے جا رہی ہے۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...