
جئے رام رمیش نے یہ بھی کہا کہ امریکہ میں ہندوستان کے آئی ٹی اور دیگر خدماتی برآمدات کے حوالہ سے صورتحال واضح نہیں ہے۔ ان کے مطابق اس معاہدہ میں سروسز شعبہ کے بارے میں کوئی ٹھوس ضمانت نظر نہیں آتی، جس سے ہندوستانی آئی ٹی کمپنیوں اور پیشہ وروں کے مستقبل پر سوالیہ نشان قائم ہو گیا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان کی برآمدات کو اب امریکہ میں پہلے کے مقابلے زیادہ محصولات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس سے ہندوستانی برآمد کنندگان کی مسابقتی صلاحیت کمزور ہو سکتی ہے۔






