
پنجاب کے مانسا ضلع کے کسان رہنما جسبیر سنگھ کے مطابق دھان میں نمی کی شکایت ہر سال ہوتی ہے، مگر اس سال بارش اور سیلاب نے حالات بدتر بنا دیے ہیں۔ ان کے بقول کھیتوں کی زمین ابھی تک گیلی ہے۔ کسان کٹائی کے بعد دھان براہِ راست بوریوں میں بھر کر منڈی لے جا رہے ہیں، جس سے نمی زیادہ ہے اور فصل مسترد کی جا رہی ہے۔
پنجاب کی منڈیوں میں اتنی گنجائش نہیں کہ وہاں دھان کو رکھا یا سکھایا جا سکے۔ فصل واپس لانا مہنگا پڑتا ہے اور کھیت بھی ابھی گیلی حالت میں ہیں۔ ایسے میں باہر کھڑے تاجر کم قیمت پر کسانوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
اس سال دھان کی کم از کم امدادی قیمت 2389 روپے فی کوئنٹل طے کی گئی ہے، مگر یوپی اور دیگر ریاستوں کی منڈیوں کے باہر تاجر کسانوں سے 1500 سے 1700 روپے فی کوئنٹل میں دھان خرید رہے ہیں۔ بھارتیہ کسان یونین کے رہنما دھرمیندر ملک نے اس غیر منصفانہ خرید پر پابندی کی مانگ کرتے ہوئے یوپی کے وزیر اعلیٰ کو خط لکھا ہے، مگر ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔






