گندم کی ایم ایس پی خریداری پر کانگریس اور بی جے پی میں تکرار تیز

AhmadJunaidJ&K News urduApril 1, 2026358 Views


مدھیہ پردیش میں گندم کی ایم ایس پی خریداری کی تاریخوں میں تبدیلی پر کانگریس اور بی جے پی آمنے سامنے ہیں۔ کانگریس نے تاخیر کو کسان مخالف قرار دیا، جبکہ حکومت نے اسے عالمی حالات سے جوڑا ہے

<div class="paragraphs"><p>جیتو پٹواری / آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>جیتو پٹواری / آئی اے این ایس</p></div>

i

user

بھوپال: مدھیہ پردیش میں گندم کی کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) پر خریداری کی تاریخوں میں بار بار تبدیلی کے معاملے پر اپوزیشن کانگریس اور حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے درمیان لفظی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے نئی معیاری عملی طریقہ کار (ایس او پی) جاری کیے جانے کے بعد تنازع مزید بڑھ گیا ہے۔

حکومت کے تازہ فیصلے کے مطابق بھوپال، اندور، اجین اور نرمداپورم ڈویژن میں گندم کی خریداری اب 7 اپریل کے بجائے 10 اپریل سے شروع ہوگی۔ اسی طرح جبل پور، گوالیار، ریوا، شہڈول، چمبل اور ساگر ڈویژن میں خریداری، جو پہلے 7 اپریل سے شروع ہونی تھی، اب بڑھا کر 15 اپریل کر دی گئی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ حکومت اس سے پہلے بھی خریداری کی تاریخیں بدل چکی ہے، جب ابتدا میں یہ عمل 16 مارچ سے شروع ہونا تھا، جسے بعد میں یکم اپریل تک مؤخر کیا گیا تھا۔

کانگریس نے اس فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ خریداری میں تاخیر کے باعث کسان شدید مشکلات کا شکار ہیں اور انہیں اپنی فصل کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ ریاستی کانگریس صدر جیتو پٹواری نے کہا کہ بڑی تعداد میں کسان بینک قرضوں کی ادائیگی کے لیے پریشان ہیں اور 31 مارچ کی آخری تاریخ سے پہلے انہیں اپنی پیداوار سستے داموں بیچنی پڑی۔

انہوں نے مزید کہا کہ مقررہ وقت گزرنے کے بعد تقریباً 40 فیصد کسان قرض ادا نہ کر پانے کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے بار بار تاریخوں میں تبدیلی کسانوں کے مفاد کے خلاف ہے اور خریداری شروع نہ ہونے کے باعث کسانوں کو ایم ایس پی سے کم قیمت پر گندم فروخت کرنی پڑ رہی ہے۔

دوسری جانب بی جے پی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کانگریس کو نشانہ بنایا ہے۔ ریاستی بی جے پی کسان مورچہ کے سربراہ جے پال سنگھ چاوڑا نے کہا کہ کانگریس کبھی بھی کسانوں کی حقیقی خیر خواہ نہیں رہی۔ انہوں نے وضاحت دی کہ مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے سبب اناج کی پیکجنگ میں استعمال ہونے والے پولیمر کی قلت پیدا ہوگئی ہے، جس سے بوریوں کی دستیابی متاثر ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت نے مدھیہ پردیش کو جوٹ کی 50 ہزار اضافی بوریاں فراہم کی ہیں تاکہ خریداری کے عمل میں آسانی ہو سکے۔ چاوڑا نے یقین دلایا کہ ریاستی حکومت کسانوں کی گندم کا ایک ایک دانہ 2625 روپے فی کوئنٹل کی شرح سے خریدنے کے لیے پُرعزم ہے۔ اس معاملے نے ریاست کی سیاست کو گرم کر دیا ہے اور آئندہ دنوں میں اس پر مزید سیاسی بیان بازی متوقع ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...