
کچھ حلقے یہ دلیل دیتے ہیں کہ دنیا خود بخود ہندوستان کی طرف متوجہ ہوگی کیونکہ وہ جلد ہی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے والا ہے۔ لیکن اس کی ٹھوس بنیاد موجود نہیں۔ یقیناً دنیا کی دلچسپی ہندوستان میں بڑھ رہی ہے، لیکن اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ مغربی کمپنیاں ہندوستانی منڈی تک کیسے رسائی حاصل کرتی ہیں۔ برآمدات کے لحاظ سے ہندوستان کے پاس متنوع امکانات کا فقدان ہے اور وہ امریکہ پر حد سے زیادہ انحصار کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ دباؤ ڈالنے اور دھمکانے کی طاقت رکھتا ہے۔
اس سب کے درمیان یہ دلچسپ امر ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں کے جواب میں ہندوستان نے ’اسٹریٹجک خودمختاری‘ کے نظریے کو مضبوط بنانے کے لیے مہاتما گاندھی کا حوالہ دیا ہے۔ ایک اعلیٰ سرکاری ترجمان نے کہا، ’’ہم نے گاندھیائی ستیہ گرہ ماڈل پر عمل کیا ہے۔ آپ ہمیں ضرب لگاتے ہیں تو ہمیں تکلیف تو ہوتی ہے، لیکن ہم جوابی حملہ نہیں کریں گے۔ نہ ہم آپ کی بات مانیں گے اور نہ ہی کسی ایسے معاہدے پر دستخط کریں گے۔‘‘ یہ بات کہہ کر ہندوستان نے ایک اخلاقی بلندی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ گاندھیائی ستیہ گرہ اس سے کہیں زیادہ کا طلب گار ہے۔
جب اسرائیل غزہ کو لہولہان کر رہا ہے، تو وہی گاندھیائی اصول ہندوستان کے اسرائیل سے تعلقات پر سوال کھڑے کریں گے۔ اسی طرح اور بھی کئی مشکل سوال سامنے آئیں گے جنہیں حل کیے بغیر ہندوستان اس دنیا میں مضبوطی سے کھڑا نہیں ہو سکتا جو اب بھی گاندھی کے نام پر سر جھکاتی ہے۔
(مضمون نگار جگدیش رتنانی صحافی اور ایس پی جے آئی ایم آر میں فیکلٹی ہیں۔ مآخذ: دی بلین پریس)






