گاندھی کا سوراج اور سو سالہ فکری کشمکش…میناکشی نٹراجن

AhmadJunaidJ&K News urduOctober 2, 2025384 Views


رامائن میں کسی سنہری ایودھیا کی کہانی نہیں ملتی۔ بلکہ جب وہ سنہرے ہرن کے پیچھے بھاگتے ہیں تو جدوجہد اور آزمایش شروع ہو جاتی ہے۔ رام راجیہ کی اصل جھلک یہ ہے کہ وہاں تالے نہیں لگتے، دل بڑے ہوتے اور خوف نہیں ہوتا۔ مگر جیسے ہی تنگ نظری آتی ہے، عمل کی روح ختم ہو جاتی ہے۔

یہی سبق ہے کہ سوراج روز بیداری چاہتا ہے۔ یہ جامد نہیں، اس کی رفتار لطیف ہے اور یہ مسلسل جدوجہد ہے۔ ذرا سی غفلت غلامی کی طرف لے جاتی ہے۔

سو سال گزرنے پر بھی اس تنظیم نے محض الفاظ اور نعروں کی تراش خراش کی ہے مگر حکومت کی زبان اب بھی وہی ہے۔ ان کے یہاں سوراج نہیں بلکہ اس کے نام پر بالا دست طبقے کی حکمرانی قائم رکھنے کی کوشش ہے مگر ’گاندھی کا راستہ‘ اس سب سے بے نیاز ہے۔ وہ ہر دور میں انسانیت کو اجالا دیتا رہے گا۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...