
بی جے پی کے ایک سینئر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ وشو ہندو پریشد، جو بجرنگ دل کی ذیلی تنظیم ہے، کے پاس وافر وسائل ہیں اور وہ ان چوکس گروہوں کو فنڈ فراہم کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتی۔ انہیں فون، گاڑیاں اور مالی مدد دی جاتی ہے تاکہ ایجنڈا تیزی سے آگے بڑھایا جا سکے۔
لکھنؤ کے ایک کامیاب وکیل، جو گئو رکشکوں کے مقدمات بلا معاوضہ لڑتے ہیں، کھلے عام فخر سے کہتے ہیں کہ انہیں اس خدمت کے بدلے خاطر خواہ انعام مل رہا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ انہیں ہائی کورٹ کا جج بنانے کے لیے منتخب کیا گیا ہے اور جلد اعلان متوقع ہے۔ دیگر وکلا کو بھی اسی نوعیت کے انعامات کا وعدہ کیا گیا ہے۔
اگر یہ رجحان بلا روک ٹوک جاری رہا تو نہ صرف فرقہ وارانہ خلیج مزید گہری ہوگی بلکہ پورے ملک میں قانون کی حکمرانی بھی شدید طور پر کمزور پڑ جائے گی۔ ریاست کا بنیادی فریضہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہے۔ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے یا تو دباؤ میں ہوں یا جانبدارانہ رویہ اپنائیں، تو جمہوری ڈھانچہ کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ گئو رکشا کے نام پر ہونے والا یہ تشدد محض چند واقعات نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی علامت ہے جس میں خوف، نفرت اور سیاسی مفاد ایک دوسرے میں گتھم گتھا ہو چکے ہیں۔ اس صورت حال کا تقاضا ہے کہ قانون کو واضح، غیر مبہم اور بلا امتیاز نافذ کیا جائے، ورنہ انصاف کا تصور محض ایک نعرہ بن کر رہ جائے گا۔






