کیرالہ اسمبلی انتخاب سے عین قبل سیاسی گرمی اچان بڑھ گئی ہے۔ کانگریس لیڈر وی ڈی ستیشن نے ایک مبینہ ویڈیو جاری کرتے ہوئے سنگین الزام عائد کیا ہے کہ بی جے پی کارکن ووٹ کے بدلے پیسے تقسیم کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ویڈیو میں صاف نظر آ رہا ہے کہ ایک معمر خاتون کو پیسے دیے جا رہے ہیں اور یہ سب پارٹی امیدوار کی موجودگی میں ہو رہا ہے۔
کانگریس لیڈر ستیشن نے ’کیش فار ووٹ‘ کا یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف ایک سیٹ تک محدود نہیں ہے بلکہ کئی انتخابی حلقوں میں خواتین کو پیسے اور ساڑیاں دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ کیرالہ میں پہلی بار ہو رہا ہے اور بی جے پی ووٹرس کو متاثر کرنے کے لیے نئی حکمت عملی اپنا رہی ہے۔ یہ جمہوری عمل کو متاثر کرنے کی سنگین کوشش ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
کانگریس نے اس معاملہ میں الیکشن کمیشن سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ ستیشن نے متنبہ کیا ہے کہ اگر متعلقہ افسران اس معاملہ میں کارروائی نہیں کرتے تو پارٹی قانونی راستہ اختیار کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتخابات سے عین قبل اس طرح کی سرگرمیاں انتخابی ضابطۂ اخلاق کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
الپّوزا میں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے بھی پلکڑ میں پیسے بانٹنے کے الزامات کو ’حیرت انگیز‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ میڈیا رپورٹس اور ویڈیوز میں واضح اشارے ملتے ہیں کہ امیدوار کا کردار مشکوک ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے فوری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تاکہ انتخابات کی شفافیت برقرار رہے۔
دوسری طرف بی جے پی لیڈر ایس سریش نے خواتین کو پیسے تقسیم کیے جانے سے متعلق الزامات کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سنجیدہ الزامات نہیں ہیں اور متعلقہ خاتون خود واضح کر چکی ہے کہ بی جے پی نے کوئی پیسہ نہیں دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس اور ایل ڈی ایف شکست کے خوف سے جھوٹ پھیلا رہے ہیں۔ امیدوار شوبھا سریندرن کا نام لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام انہیں رکن اسمبلی منتخب کرنے جا رہی ہے۔


































