
’ایچ فائلز‘ کا انکشاف کوئی واحد واقعہ نہیں رہا۔ اس سے قبل کرناٹک کے مہادیوپورہ (لوک سبھا انتخابات 2024) اور کرناٹک کے آلند (2023 کے سابقہ اسمبلی انتخابات) بارے میں بھی اسی نوعیت کے سنگین انکشافات سامنے آ چکے تھے۔ غیرکارپوریٹ میڈیا اداروں، بے باک یوٹیوبرز اور آزاد ماہرین کے ایک گروہ نے الیکشن کمیشن کے خصوصی گہری ازسرِنو جائزہ کے عمل پر جو تحقیق کی، اس نے ووٹر فہرست کی نظر ثانی اور انتخابی انتظام پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔
ایس آئی آر کے معاملے پر بات کرتے ہوئے سی پی آئی-ایم ایل کے جنرل سیکرٹری دیپانکر بھٹاچاریہ نے کہا تھا کہ ایس آئی آر کو ’اسپیشل انٹینسیو ری کنسٹرکشن‘ کہنا زیادہ درست ہوگا۔ اس بیان نے تشویش کی لہر پھیلا دی مگر اس سے پہلے کہ ہم اس عمل کی دیگر خامیوں پر غور و خوض کریں اور سمجھنے کی کوشش کریں کہ بھٹاچاریہ نے ایسا کیوں کہا، ہمیں انتخابی اعداد و شمار کی جانب متوجہ ہونا چاہیے تاکہ جو معلومات وہ بتاتے ہیں اس کا تجزیہ ممکن ہو سکے۔





