
کسی بھی سچے جمہوری نظام میں اقتدار میں موجود افراد سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی طاقت اور اختیار کا استعمال اس دانشمندی کے ساتھ کریں کہ ان کی حکومت اُن لوگوں کو بھی اپنی محسوس ہو جنہوں نے انتخابات میں انہیں ووٹ نہیں دیا۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ معاشرے میں بداعتمادی نہ بڑھے اور کوئی طبقہ خود کو نظر انداز یا تحقیر کا شکار محسوس نہ کرے۔ مگر عملی سیاست میں اکثر ایسا نہیں ہو پاتا۔ بعض اوقات حکمراں غیر ضروری تنازعات کو جنم دیتے ہیں اور نئے نئے محاذ کھولتے رہتے ہیں۔
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے حالیہ دنوں جس انداز میں جیوتش پیٹھ کے شنکراچاریہ سوامی اوِمُکتیشورانند سرسوتی کے ساتھ تنازع کھڑا کیا، اسے اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ابتدا میں تو انہوں نے کوئی براہِ راست اقدام نہیں لیا لیکن بعد میں معاملہ اس وقت سنگین ہو گیا جب پریاگ راج کے ماگھ میلے کے دوران اشنان کے لیے جا رہے سوامی کی پالکی روک دی گئی۔ ان کے شاگردوں کے ساتھ بدسلوکی کی گئی، ان کی چوٹی کھینچی گئی اور مارپیٹ کے الزامات سامنے آئے۔ اس کے بعد اتر پردیش اسمبلی میں، جہاں سوامی اپنا دفاع نہیں کر سکتے تھے، ان کے شنکراچاریہ ہونے پر سوالات اٹھائے گئے۔






