کیا سوشل میڈیا کی ’لت‘ سچ میں بیماری ہے؟ انسٹاگرام چیف نے عدالت میں رکھی مختلف رائے

AhmadJunaidJ&K News urduFebruary 12, 2026361 Views


لاس ایجنلس میں ان دنوں سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف ایک بڑا مقدمہ چل رہا ہے۔ میٹا (انسٹاگرام اور فیس بک کی کمپنی) اور گوگل کا یوٹیوب مرکزی ملزمان ہیں۔ ٹک ٹاک اور اسنیپ پہلے ہی سمجھوتہ کر چکے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>انسٹاگرام</p></div><div class="paragraphs"><p>انسٹاگرام</p></div>

i

user

امریکہ کے لاس ایجنلس میں ان دنوں سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف ایک بڑا مقدمہ چل رہا ہے۔ اسی سماعت کے دوران انسٹاگرام کے چیف ایڈم موسیری نے عدالت میں کہا کہ وہ اس بات سے متفق نہیں ہے کہ لوگ سوشل میڈیا کے ’کلینیکلی ایڈیکٹڈ‘ یعنی طبی طور پر اس کی لت کے شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب کئی خاندان الزام عائد کر رہے ہیں کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت پر برا اثر ڈال رہے ہیں۔ اس کیس میں میٹا (انسٹاگرام اور فیس بک کی کمپنی) اور گوگل کا یوٹیوب مرکزی ملزمان ہیں۔ ٹک ٹاک اور اسنیپ پہلے ہی سمجھوتہ کر چکے ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ اس فیصلے کا اثر ہزاروں ایسے معاملوں پر پڑ سکتا ہے۔

اس مقدمے کے مرکز میں 20 سال کی ایک نوجوان لڑکی ہے، جس کی شناخت کے جی ایم نام سے کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ مزید 2 لوگوں کے معاملات کو ٹیسٹ کیس کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ ان معاملات کے ذریعہ یہ دیکھا جائے گا کہ جیوری کس کی دلیل کو زیادہ مضبوط تسلیم کرتی ہے۔ خاندان کا الزام ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیوں نے ایسے فیچرز اور الگورتھم بنائے ہیں جو بچوں کو زیادہ سے زیادہ وقت ایپ پر روکے رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے بچوں میں ڈپریشن، بے چینی اور دیگر ذہنی مسائل بڑھ رہے ہیں۔

عدالت میں ایڈم موسیری نے کہا کہ کسی چیز کا زیادہ استعمال اور طبی لت دونوں الگ باتیں ہیں۔ ان کے مطابق کئی لوگ انسٹاگرام پر ضرورت سے زیادہ وقت گزارتے ہیں اور بعد میں انہیں برا لگتا ہے، لیکن اسے بیماری کہنا درست نہیں ہے۔ مدعی کے وکیل نے ان کے پرانے انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھائے۔ اس پر موسیری نے کہا کہ پہلے انہوں نے یہ لفظ عام بات چیت میں استعمال کیا تھا، لیکن اب وہ زیادہ احتیاط برتتے ہیں۔

سماعت کے دوران انسٹاگرام کے بیوٹی فلٹرس پر بھی سوال اٹھے۔ الزام ہے کہ یہ فلٹرس چہرہ اس طرح بدلتے ہیں کہ نوجوانوں میں اپنے جسم کو لے کر عدم اطمینان بڑھ سکتا ہے اور پلاسٹک سرجری جیسی چیزوں کا دباؤ بن سکتا ہے۔ واضح رہے کہ جنوری 2025 میں میٹا نے تھرڈ-پارٹی اے آر فلٹرس بند کر دیے تھے۔ عدالت میں موجود کچھ والدین اس معاملے پر جذباتی بھی ہو گئے، جس کے بعد جج کو انہیں خاموش رہنے کی ہدیات دینی پڑی۔

میٹا کا کہنا ہے کہ اس نے نوجوانوں کی حفاظت کے لیے کئی نئے فیچر شامل کیے ہیں۔ لیکن ناقدین کا دعویٰ ہے کہ ریسرچ کے دوران بنائے گئے ’ٹین اکاؤنٹس‘ کو اب بھی غیر مناسب جنسی مواد اور خود کو نقصان پہنچانے سے متعلق مواد تجویز کیا گیا۔ کمپنی نے ان الزامات کو غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...