
کانگریس اور بائیں بازو کے درمیان شدید اختلافات ہو سکتے ہیں، عدم اعتماد ہو سکتا ہے، تصادم ہو سکتا ہے؛ لیکن یہ تصادم نظریاتی بنیادوں پر ہوتا ہے، نہ کہ اس بچکانہ سوچ پر کہ ’جو میرے خلاف ہے، وہ سنگھ کا چھپا ہوا رشتہ دار ہے۔‘(فوٹو : پی ٹی آئی)
کیا کیرالہ کے کمیونسٹ واقعی راہل گاندھی کی حالیہ تقریریں سن رہے ہیں؟ اگر سن رہے ہیں تو انہیں یہ بھی نوٹ کرنا چاہیے کہ یہ محض انتخابی جوش کا عارضی شور نہیں ہے؛ یہ اس قومی لیڈر کی زبان ہے، جو کیرالہ اسمبلی انتخابات کے دوران فورٹ کوچی سے لے کر کوئلانڈی، کننور، کلاچی اور پھر الاپوزا تک ایک ہی الزام کو مختلف الفاظ میں دہراتے ہوئے ایل ڈی ایف کو بی جے پی-آر ایس ایس کا شراکت دار، شریک کار، خفیہ معاون، حتیٰ کہ نظریاتی طور پر کھوکھلا محاذ قرار دے رہا ہے۔
کبھی وہ کہتے ہیں کہ یو ڈی ایف کی لڑائی صرف ایل ڈی ایف سے نہیں، ’ایل ڈی ایف-بی جے پی پارٹنرشپ ‘سے ہے؛ کبھی کہتے ہیں’لیفٹ میں اب کچھ بھی لیفٹ نہیں بچا‘؛ کبھی ایل ڈی ایف کو طنزیہ طور پر’سی جے پی‘یعنی کمیونسٹ جنتا پارٹی کہتے ہیں اور کبھی الزام لگاتے ہیں کہ کیرالہ میں ایک’خفیہ ہاتھ‘ایل ڈی ایف کو چلا رہا ہے۔ ایسا ہاتھ، جو فرقہ پرستی کو ہوا دیتاہے، آئین کو نہیں مانتا، سماج کو تقسیم کرتا ہے اور نفرت پھیلاتا ہے۔ یہ باتیں کہتے ہوئے وہ بھول جاتے ہیں کہ’ہاتھ‘ان کا اپناانتخابی نشان ہے۔
وہ یہاں تک کہتے ہیں کہ کیرالہ میں ہر کوئی بی جے پی، آر ایس ایس اور سی پی آئی (ایم) کے درمیان تعلق دیکھ سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنارائی وجین ان قوتوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں جو اقلیتوں-مسلمانوں، عیسائیوں اور سکھوں پر حملہ کرتی ہیں۔ ایل ڈی ایف کے اندر اب دو ہی قسم کے لوگ ہیں۔ ایک وہ موقع پرست، جو اقتدار کے لیے بی جے پی-آر ایس ایس کی مدد لیتے ہیں، اور دوسرے وہ پرانے کارکن جو اپنے ہی نظریے کے فریب خوردہ ہیں۔
بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ راہل گاندھی اس کو مزید بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایل ڈی ایف-بی جے پی سمجھوتے کے دو ثبوت ہیں۔ پہلا یہ کہ ان کے (راہل گاندھی)خلاف 36 سے 40 مقدمے ہیں، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے ان سے پانچ دن پوچھ گچھ کی، لیکن کیرالہ کے وزیر اعلیٰ اور ان کے بچوں کے خلاف مرکزی ایجنسیاں غیر فعال کیوں ہیں؟
دوسرا، سبریمالا مندر سے سونا چوری کر کے پیتل رکھ دینے کے مبینہ معاملے پر وزیر اعظم کی خاموشی۔
ان کے مطابق، اگر مودی واقعی ایل ڈی ایف کے خلاف ہیں تو بولتے کیوں نہیں؟ راہل نے یہ بھی کہا کہ مودی ایل ڈی ایف کو جتوانا چاہتے ہیں کیونکہ ایل ڈی ایف قومی سطح پر انہیں ویسا چیلنج نہیں دے سکتا جیسا کانگریس اور یو ڈی ایف دے سکتے ہیں۔ اورپھر انہوں نے اس پوری دلیل کو ایک انتخابی طنز میں سمیٹ دیا، اگر مودی کہیں- کودو تو وزیر اعلیٰ کودیں گے، کہیں لیٹ جاؤ تو لیٹ جائیں گے، کہیں اڈانی کو کچھ دو تو دے دیں گے۔ اس زبان میں صرف غصہ نہیں؛اس میں سیاسی طور پر عدم اعتماد کو مستقل اصول میں بدل دینے کی بے چینی ہے۔
یہیں سے راہل گاندھی کی سیاسی پریشانی شروع ہوتی ہے۔
اپوزیشن کی سیاست کو نقصان
کیرالہ میں کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتیں حریف ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں، نہ ہی اس میں کوئی گناہ ہے۔ کیرالہ کی سیاست دہائیوں سے اسی دو قطبی نظام پر قائم ہے، جہاں یو ڈی ایف اور ایل ڈی ایف ایک دوسرے سے اقتدار حاصل کرتے رہے ہیں۔ لیکن لوک سبھا میں قائد حزبِ اختلاف کے طور پر راہل گاندھی اب صرف وائناڈ یا کیرالہ کے پرچارک نہیں ہیں؛ وہ قومی سطح پراپوزیشن کی ایک مرکزی آواز ہیں۔
ان کی زبان اب صرف ایک ریاست کی انتخابی ضرورت کی چیزنہیں رہ گئی؛ بلکہ پورے اپوزیشن کی سمت بھی طے کرتی ہے۔
اس لیے جب وہ مقامی انتخابی فائدے کے لیے بائیں بازو اور سنگھ پریوار کے درمیان فاصلہ ہی مٹا نے لگتے ہیں تو وہ صرف ایل ڈی ایف پر حملہ نہیں کرتے؛وہ اپوزیشن کی سیاست کے پورے ڈھانچے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
وہ یہ نہیں کہہ رہے کہ ایل ڈی ایف بدعنوان ہے، انتظامی طور پر جمود کا شکار ہے، موقع پرست ہے یا اپنے نظریاتی وعدوں سے پیچھے ہٹ گیا ہے -جو ایک جائز اور سخت تنقید ہو سکتی تھی۔ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ایل ڈی ایف دراصل اسی دائیں بازو کی فرقہ وارانہ منصوبہ بندی کا حصہ ہے جس کے خلاف کانگریس قومی سطح پر محاذ بنانا چاہتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انتخابی بیان بازی کا فقدان سٹریٹجک مایوپیا میں بدل جاتا ہے۔
اسی لیے سی پی آئی (ایم) کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے کہا گیا کہ انڈیا بلاک کے قومی رہنماؤں کو مقامی دباؤ میں آ کر ایسا بیان نہیں دینے چاہیے جو قومی اتحاد کو ہی نقصان پہنچائے۔
یہ دراصل قومی سطح پر وزیر اعظم نریندر مودی، بی جے پی اور آر ایس ایس کی سیدھی مدد کرنے والی راہ ہے۔ یہ اعتراض صرف تنظیمی آداب کا نہیں بلکہ اپوزیشن کی سیاست کے طویل مدتی مفاد کا تھا۔ کیونکہ اگر قومی سطح پر آپ آئین، اداروں، وفاقی ڈھانچے اور جمہوریت کے دفاع کے لیے ساتھ کھڑے ہیں تو ریاستی سطح پر بھی باہمی اختلاف کی زبان میں ایک نظریاتی توازن ضرور ہونا چاہیے۔
حریف کو دشمن کہنا سیاست ہے؛ مگر حریف کو اسی منصوبے کا حصہ قرار دینا، جس سے آپ خود ملک کو بچانے کا دعویٰ کرتے ہیں، خودکشی ہے۔
اسٹریٹجک ہوشمندی کا فقدان
ایک تعقل پسند تجزیہ کار کی نظر سے دیکھیں تو راہل گاندھی کی یہ زبان اسٹریٹجک ہوشمندی کا اظہارنہیں بلکہ اسٹریٹجک ناسمجھی ہے۔ فاشسٹ یا نیم فاشسٹ سیاست سے لڑنے کا پہلا اصول یہی ہوتا ہے کہ آپ اپنے حقیقی اور ثانوی حریف کے درمیان فرق بنائیں رکھیں۔
آپ اپنے نظریاتی حلیف-حریف سے سخت لڑائی لڑ سکتے ہیں، اس کی حکومت پر تنقید کر سکتے ہیں، اس کی بدعنوانی، بیوروکریسی، تنظیمی جمود، اقتدار کی ہوس اور نظریاتی کھوکھلے پن پر حملہ کر سکتے ہیں؛ لیکن اگر آپ اسے اسی سانچے میں ڈھال دیں جس میں آر ایس ایس اور بی جے پی کو ڈھالتے ہیں تو آپ تجزیہ نہیں کر رہے ہوتے؛ انتخابی تماشا کر رہے ہوتے ہیں۔ اور تماشا، تاریخ کی جگہ نہیں لے سکتا۔
آئیڈیالوجی کی تنقید اور نظریاتی اتحاد میں فرق ہوتا ہے۔ راہل گاندھی اس فرق کو مٹا رہے ہیں۔
ہندوستانی سیاست کی تاریخ خود راہل گاندھی کے خلاف گواہی دیتی ہے۔ 2004 میں کانگریس اور دیگر جماعتوں نے مل کر یو پی اے بنایا اور اسے بائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت نے بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کو اقتدار سے باہر رکھنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ یہ ساتھ محض نشستوں کی ریاضی نہیں تھی؛ یہ نیشنل کامن منیمم پروگرام جیسے مشترکہ ڈھانچے پر قائم ایک سمجھوتہ تھا، جس میں اختلافات کے باوجود ایک وسیع جمہوری-سیکولر اتفاق رائے کی بنیاد موجود تھی۔ ممکنہ طور پر وہ کئی دہائیوں میں ملک کی بہترین حکومتوں میں سے ایک تھی۔
بعد میں 2008 میں بائیں بازو کی جماعتوں نے اسی کانگریس کی قیادت والی حکومت سے حمایت واپس لے لی، کیونکہ ان کے مطابق حکومت اس مشترکہ پروگرام اور آزاد خارجہ پالیسی کے وعدوں سے ہٹ رہی تھی۔
یعنی تاریخ یہ کہتی ہے کہ کانگریس اور بائیں بازو کے درمیان شدید اختلافات ہو سکتے ہیں، ٹوٹ ہو سکتی ہے، عدم اعتماد ہو سکتا ہے، تصادم ہو سکتا ہے؛ لیکن یہ تصادم نظریاتی بنیاد پر ہوتا ہے، نہ کہ اس ناسمجھی پر کہ’جو میرے خلاف ہے وہ سنگھ کا چھپا ہوا رشتہ دار ہے۔ ‘
سیاسی ہوشمندی کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ آپ اختلاف کو غداری کی زبان میں نہیں بلکہ تضاد کی زبان میں پڑھیں۔
فائدہ بی جے پی کو ہوگا
راہل گاندھی کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات نے ایک بنیادی سبق دیا تھا، اور وہ یہ تھا کہ اپوزیشن کی نامکمل، غیر مربوط، ٹیڑھی میڑھی، باہمی رنجش اور عدم اعتماد سے بھری ہوئی یکجہتی بھی بی جے پی کو ایک دہائی میں پہلی بار اپنے بل بوتے پر اکثریت سے نیچے لا سکی۔ یہ اتحاد کوئی مثالی دنیا نہیں تھا؛ یہ دراڑوں، علاقائی عزائم، باہمی عدم اعتماد اور کئی تکلیف دہ سمجھوتوں سے بنا تھا۔ لیکن سیاست میں کئی بار تاریخ کی حفاظت آدرشوں سے نہیں بلکہ نامکمل اتفاق رائے سے بھی ہوتی ہے۔
اگر 2026 میں راہل گاندھی خود اسی پل پر ہتھوڑا مارنے لگیں جسے 2023-24 میں بڑی مشکل سے کھڑا کیا گیا تھا تو وہ مودی کے خلاف لڑائی نہیں بلکہ مودی کے لیے مستقبل کا ایک بند راستہ کھولنے کا کام کر رہے ہیں۔
راہل کی یہ لائن مودی کو تین طرح سے فائدہ پہنچاتی ہے۔ پہلا، یہ اپوزیشن کے اندر عدم اعتماد کا زہر گھولتی ہے۔ دوسرا، بی جے پی کو یہ کہنے کا موقع دیتی ہے کہ دیکھیے، یہ سب ایک دوسرے کو ہی ہمارا بی ٹیم کہتے ہیں؛ اصل متبادل تو ہم ہیں۔ اور تیسرا، راہل گاندھی کی یہ بیان بازی نظریاتی تصادم کو اخلاقی سنسنی میں بدل دیتی ہے، جہاں طبقہ، ریاست، سرمایہ، فرقہ واریت، وفاقیت، فلاح وبہبود، محنت، اقلیتوں کے حقوق، کسان، ماہی گیر، سماجی انصاف اور جمہوری اداروں جیسے حقیقی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں، اور ان کی جگہ الزامات کی ایک دھند لے لیتی ہے۔
بی جے پی اسی طرح کی دھند میں آسانی سے چلتی ہے، کیونکہ دھند اس کا فطری موسم ہے۔ جب اپوزیشن اپنے ہی اندر فاشزم کی نقلی مورتیاں بنانے لگتی ہے، تب اصل فاشزم پیچھے بیٹھ کر مسکراتا ہے۔
تنقید میں مبالغہ آرائی
یہاں مسئلہ یہ نہیں کہ ایل ڈی ایف تنقید سے اوپر ہے۔ ہرگز نہیں۔ کسی بھی بائیں بازو کی حکومت کو اس کے انتظامی غرور، بدعنوانی کے الزامات، ریاستی طاقت کے ارتکاز، تنظیمی جمود، بیوروکریسی کے بڑھتے اثرات اور اقتدار کی ہوس پر سخت ترین سوال کا سامنا کرنا چاہیے۔ اسے یہ بھی جواب دینا چاہیے کہ کیا اس نے اپنے تاریخی نظریاتی وعدوں، جیسے محنت، سماجی انصاف، جمہوری شرکت اور سیکولر عزم کو انتظامی سہولت اور انتخابی مینجمنٹ کے نیچے دبا دیا ہے۔
لیکن یہ تنقید اس وقت سیاسی طور پر مفید ہوتی ہے جب وہ بائیں بازو کی ناکامی کو سامنے لائے، نہ کہ اسے دائیں بازو کی جڑواں نقل قرار دے دے۔ پہلی قسم کی تنقید اصلاح، دھکا، ازسرنو تشکیل اور نظریاتی احیا کے در وا کرتی ہے؛ دوسری قسم صرف عدم اعتماد، بدلے، پروپیگنڈہ اور طویل مدتی بکھراؤ کا دروازہ کھولتی ہے۔
اس وقت راہل گاندھی کیرالہ میں ایک ایسے شخص کی طرح بول رہے ہیں جو اپنے پڑوسی کے گھر میں آگ دیکھ کر یہ بھول گیا ہے کہ ہوا کس سمت چل رہی ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ شعلے صرف سامنے والے صحن کو جلائیں گے؛ مگر فرقہ وارانہ سیاست کی آگ میں دیواریں زیادہ دیر تک الگ نہیں رہتی ہیں۔
کیرالہ میں ایل ڈی ایف کو ہرانے کی بے چینی سمجھ میں آتی ہے؛ کانگریس کو اپنے کارکنوں، حامیوں اور سماجی بنیاد کو توانائی دینی ہے، یہ بھی سمجھ میں آتا ہے؛ لیکن ایل ڈی ایف کو آر ایس ایس کے مساوی قرار دینا سیاسی دانشمندی نہیں بلکہ ناسمجھی اور بے صبری ہے۔ اور عجلت پسند لوگ اکثر تاریخ نہیں بناتے-وہ تاریخ کی غلطیاں دہراتے ہیں۔
دراصل کیرالہ میں راہل گاندھی کی حالیہ تقاریر کی ایک بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ جہاں وہ قومی سطح پر خود کو آئین، تکثیریت، محبت، سماجی انصاف اور جمہوری سیاست کا چہرہ بنانا چاہتے ہیں؛ وہیں کیرالہ میں ایسی زبان بول رہے ہیں جو حریف اور دشمن، اختلاف اور ملی بھگت، تنقید اور توہین، حکمت عملی اور جنون-ان سب کے درمیان کی حدیں مٹا دیتی ہے۔ یہ زبان اپوزیشن اتحاد کی نہیں بلکہ انتخابی مبالغے کی زبان ہے۔
یہ اس شخص کی زبان ہے جو ہر وقتی فتح کو تاریخی فتح سمجھ بیٹھتا ہے۔ لیکن تاریخ ہمیشہ ووٹوں کی گنتی کی میز پر نہیں لکھی جاتی؛ کئی بار تاریخ ان پلوں پر لکھی جاتی ہے جنہیں آپ غصے میں توڑ دیتے ہیں، اور پھر اگلی لڑائی میں پار کرنے کے لیے آپ کے پاس کوئی راستہ نہیں بچتا۔
یہی بات کمیونسٹوں کو بھی سمجھنی چاہیے۔ راہل گاندھی کو اپنا ’نیا مہانایک‘ ماننے کی کوئی بھی جلد بازی آخرکار اسی زبان کو جائز قرار دے گی جو کل آپ کے وجود کو ہی مشکوک بنا سکتی ہے۔
اور یہی بات راہل گاندھی کو بھی سمجھنی چاہیے کہ مودی، بی جے پی اور آر ایس ایس کے خلاف کوئی بھی پائیدار محاذ توہین کی اینٹوں سے نہیں بلکہ مشکل بقائے باہمی کے گارے سے بنتا ہے۔ اس میں اختلافات ہوں گے، عدم اعتماد ہوگا، تلخی ہوگی، علاقائی تنازعات ہوں گے، انتخابی ٹکراؤ ہوں گے؛ لیکن پھر بھی ایک بنیادی سمجھ باقی رہنی چاہیے کہ ہندوستان کی سیاست میں اصل نظریاتی لڑائی کہاں ہے۔
جو لیڈر اس سادہ سی بات کو نہیں سمجھتا، وہ انتخابات تو لڑ سکتا ہے، نعرے بھی بنا سکتا ہے، جلسوں میں تالیاں بھی حاصل کر سکتا ہے؛ مگر تاریخ کی طویل جنگ کا سپہ سالار نہیں بن سکتا۔
(تریبھون سینئر صحافی ہیں۔)





