کیا بارش واقعی راحت ہے یا ایک خاموش وارننگ؟

AhmadJunaidBlogs & ArticlesJuly 9, 2025367 Views

بلال رضا عطاری القادری

کشمیر وادی، جو اپنے قدرتی حسن، دلکش مناظر اور معتدل موسم کے لیے جانی جاتی ہے، حالیہ دنوں میں شدید گرمی کی لپیٹ میں آ چکی تھی۔ جون اور جولائی کے مہینے جو کبھی ہلکی ٹھنڈک، بارشوں اور سبزہ زاروں کا پیغام لاتے تھے، اس بار قیامت خیز حدت کے ساتھ وارد ہوئے۔ حدت کی یہ شدت نہ صرف جسمانی طور پر انسانوں کو نڈھال کر گئی بلکہ ذہنی طور پر بھی ایک بے چینی، بے سکونی اور گھٹن کا ماحول پیدا کر گئی۔ سورج کی تپش، لو کے تھپیڑے، اور ماحول کی حدت نے کشمیر کی حسین وادی کو گویا تندور میں بدل دیا تھا۔ اس غیر متوقع گرمی نے عام شہری کی زندگی کو اجیرن کر دیا تھا، اور لوگ سائے، پنکھوں اور پانی کی بوند بوند کو ترسنے لگے تھے۔ایسے ماحول میں بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتیوں نے حالات کو مزید ابتر بنا دیا۔ کئی علاقوں میں روزانہ دس سے چودہ گھنٹوں تک بجلی غائب رہنا ایک معمول بن چکا تھا۔ گھروں میں پنکھے خاموش تھے، کولر ناکارہ تھے، فریج بند تھے، اور موبائل فون تک چارج کرنا ایک چیلنج بن چکا تھا۔ مریض، بزرگ، شیر خوار بچے، اور طلباء سبھی بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار تھے۔ محکمہ بجلی کی جانب سے ‘اوور لوڈ’ کا عذر ایک گھسا پٹا بہانہ محسوس ہونے لگا، جبکہ اصل میں مسئلہ انفراسٹرکچر کی فرسودگی، ناکارہ ٹرانسفارمرز اور ناقص منصوبہ بندی کا تھا۔ آج بھی وادی کے کئی علاقوں میں وہی پرانے برقی نظام استعمال ہو رہے ہیں، جنہیں کئی دہائیوں سے کوئی اپڈیٹ یا اپگریڈ نہیں ملا۔پانی کی قلت بھی ایک ایسا مسئلہ ہے جو شدید گرمی کے دنوں میں شدت اختیار کر جاتا ہے۔ بیشتر علاقوں میں نلکے خشک ہو چکے تھے۔ جہاں پانی آ بھی رہا تھا، وہاں اس کا معیار اتنا ناقص تھا کہ پینا تو درکنار، گھریلو استعمال کے لیے بھی موزوں نہ تھا۔ محکمہ پی ایچ ای کی کارکردگی مایوس کن رہی۔ عوام کو اپنی مدد آپ کے تحت پانی کے انتظامات کرنے پڑے۔ کہیں لوگ ٹینکرز خرید رہے تھے، تو کہیں کنویں یا بورنگ کا سہارا لے رہے تھے۔ شہری علاقوں میں تو پھر بھی کسی حد تک متبادل ذرائع دستیاب تھے، مگر دیہی علاقوں میں عوام کو میلوں دور سے پانی لانے پر مجبور ہونا پڑا۔ یہ سب اس بات کا عکاس ہے کہ ہم پانی جیسی بنیادی سہولت کو بھی مستقل بنیادوں پر سنبھالنے میں ناکام رہے ہیں۔شہر کے سڑکوں پر بے ہنگم ٹریفک، بند سگنلز، اور ناقص ٹریفک مینجمنٹ نے رہی سہی کسر پوری کر دی۔ گرمی میں پگھلتی سڑکوں پر لمبی قطاریں، ہارن کا شور، اور گاڑیوں میں پھنسے لوگ ایک الگ اذیت سے دوچار تھے۔ ایسے میں ٹریفک پولیس کی ناقص حکمت عملی اور غیر تربیت یافتہ اہلکاروں کی موجودگی نے حالات کو مزید ابتر کر دیا۔ کچھ علاقوں میں ٹریفک جام گھنٹوں تک برقرار رہا، جس نے مریضوں، اسکول کے بچوں، اور دفتر جانے والے ملازمین کو شدید ذہنی کوفت میں مبتلا کر دیا۔ان سب گھٹن زدہ حالات کے بیچ، جب بادل گرجے، بارش کی بوندیں زمین سے ٹکرائیں، تو یوں لگا جیسے ایک نئی زندگی نے جنم لیا ہو۔ بارش نے جیسے ساری وادی کو نہلا دیا، مٹی کی خوشبو نے فضاء میں تازگی بکھیر دی، اور لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ آ گئی۔ بچے بارش میں نہاتے، بوڑھے بارش کو تکتے، اور نوجوان سڑکوں پر نکل کر اس فطری نعمت کا استقبال کرتے نظر آئے۔ کچھ لمحے کے لیے ایسا محسوس ہوا جیسے قدرت نے ہمارے زخموں پر مرہم رکھ دیا ہو۔ ذہنی تناؤ کم ہوا، طبیعتوں میں ہلکاپن آیا، اور گھٹن زدہ فضا میں سانس لینے کا سکون نصیب ہوا۔تاہم، یہ سکون وقتی ہے۔ بارش نے وقتی طور پر ہمیں شدید گرمی سے نجات تو دلائی، مگر یہ دیرینہ مسائل کا حل نہیں۔ ہر بار جب ہم بارش کو راحت کے طور پر دیکھتے ہیں، ہم دراصل اپنی نااہلی پر پردہ ڈال رہے ہوتے ہیں۔ بارش ایک فطری عمل ہے، لیکن اس پر انحصار کرنا کہ یہ ہمیں ہر بار بچا لے گی، نہایت غیر سنجیدہ سوچ ہے۔ بارش کے بعد سڑکوں پر جمع پانی، سیورج کا ابلنا، اور کھلے مین ہولز میں گرنے کے واقعات یہ بتاتے ہیں کہ ہم بارش کے لیے تیاری نہیں کرتے، ہم صرف بارش کا انتظار کرتے ہیں۔زرعی شعبہ اس بارش سے ضرور مستفید ہوا۔ خشک زمین، سوکھتی فصلیں، اور پژمردہ درختوں کو گویا نئی جان ملی۔ سیب کے باغات میں پھلوں نے نکھرنا شروع کیا، دھان کی کھیتوں نے سرسبز ہونا شروع کیا، اور سبزیاں جڑیں پکڑنے لگیں۔ کسانوں کی دعائیں قبول ہوئیں، ان کے چہروں پر سکون آیا، اور معیشت کا پہیہ پھر سے چلنے لگا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم نے زراعت کو صرف بارش پر کیوں چھوڑ دیا ہے؟ کیا ہمارے پاس جدید آبپاشی کے نظام موجود نہیں؟ کیا ہم بارانی علاقوں کے لیے واٹر اسٹوریج یا ڈرپ ایریگیشن جیسے منصوبے نہیں بنا سکتے؟ کیا حکومت کے پاس وسائل کی کمی ہے یا صرف نیت کا فقدان ہے؟موسمیاتی تبدیلی ایک حقیقت ہے۔ دنیا بھر میں موسمی نظام غیر یقینی ہو چکا ہے۔ کہیں خشک سالی، کہیں شدید بارشیں، کہیں برفباری میں تاخیر، تو کہیں گرمی وقت سے پہلے۔ کشمیر بھی اس عالمی رجحان سے محفوظ نہیں رہا۔ ہم نے گزشتہ چند برسوں میں موسم کے غیر متوقع انداز کو کئی بار محسوس کیا ہے۔ وقت سے پہلے کھلتی کلیاں، بے وقت جھڑتی پتیاں، اور کسانوں کا غیر متوقع نقصان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہمیں موسمیاتی حالات کے لیے اپنی منصوبہ بندی میں انقلابی تبدیلیاں لانی ہوں گی۔بدقسمتی سے ہمارے منصوبہ ساز اب تک اس سچائی کو نظر انداز کرتے آئے ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی کی شدت کو سمجھنے کے بجائے ہم وقتی منصوبے بنا کر عوام کو وقتی ریلیف دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ بجلی کا مسئلہ ہو یا پانی کا، سڑکوں کی حالت ہو یا زرعی وسائل کی قلت، ہم نے دیرپا منصوبہ بندی سے ہمیشہ منہ موڑا ہے۔ یہ طرزِ فکر نہ صرف موجودہ حالات کو خراب کرتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی غیر محفوظ بناتا ہے۔حالیہ بارشوں نے جہاں ایک فطری سکون فراہم کیا، وہیں اس نے یہ سوال بھی چھوڑا کہ کیا ہم ہر بار قدرت کے رحم و کرم پر ہی جیتے رہیں گے؟ کیا ہمارا سارا نظام بارش پر منحصر ہے؟ کیا ہم نے اپنی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر دستبرداری اختیار کر لی ہے؟ کشمیر ایک ایسا خطہ ہے جو نہ صرف قدرتی وسائل سے مالا مال ہے بلکہ ذہین، محنتی اور باشعور عوام سے بھی مزین ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی توانائیوں کو منظم کریں، ماحولیاتی استحکام، بنیادی سہولیات کی فراہمی، اور دیرپا ترقی کے لیے جامع منصوبے تیار کریں۔عوام کو بھی چاہیے کہ وہ حکومت سے صرف وقتی ریلیف کا مطالبہ نہ کریں بلکہ دیرپا اصلاحات کا مطالبہ کریں۔ بجلی کا جدید نظام، پانی کی فراہمی کے متبادل ذرائع، ٹریفک مینجمنٹ میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، اور زرعی پالیسیوں میں جدت ہی وہ اقدامات ہیں جو ہمیں قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے بچا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ماحول دوست طرزِ زندگی کو فروغ دینا، درخت لگانا، فضلہ منیجمنٹ، اور پانی کی بچت جیسے امور کو عام شہری اپنی ذمہ داری سمجھیں۔بارش ایک نعمت ہے، اور ہم سب کو اس پر شکر ادا کرنا چاہیے۔ مگر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہر نعمت کے ساتھ آزمائش بھی آتی ہے۔ اگر ہم نے بارش کی نعمت کو سنبھالا نہیں، تو یہ زحمت میں بدل سکتی ہے۔ کشمیر جیسے خوبصورت مگر حساس خطے میں بارش نہ صرف سکون کا پیغام لاتی ہے بلکہ یہ ایک وارننگ بھی ہوتی ہے۔ ہمیں ہر بارش کو ایک موقع سمجھنا چاہیے—موقع اس بات کا کہ ہم اپنی کمزوریوں کو پہچانیں، انہیں دور کریں، اور ایک مضبوط، پائیدار، اور محفوظ کشمیر کی بنیاد رکھیں۔اگر ہم نے اس بارش کو بھی محض ایک وقتی سکون سمجھ کر نظر انداز کر دیا، تو کل کو یہی بارش سیلاب، مٹی کے تودے، بیماریوں اور معاشی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم جاگیں، سمجھیں، اور عمل کریں۔ کیونکہ قدرت تو اپنا کام کرتی رہے گی، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے تیار ہیں؟

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...